برطانوی پریس کو کڑے خود انضباطی نظام کی ضرورت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 17:41 GMT 22:41 PST

لارڈ جسٹس لیویسن کی یہ انکوئری برطانوی پریس کے طرز عمل، اخلاقیات اور کلچر پر ایک رپورٹ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق ایک بج کر تیس منٹ پر پیش کی جائے گی۔

لارڈ جسٹس لیویسن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانوی پریس کئی عشروں سے لوگوں کی زندگیوں پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے اور اسے انتہائی کڑے قواعد کی ضرورت ہے جو یہ صنعت خود اپنے لیے وضع کرے۔ انہوں نے کہا ان قواعد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت قانون سازی کرے۔

لارڈ لیویسن نے اپنی رپورٹ میں برطانوی پریس کے لیے ایک نئے نگران ادارے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے پیچھے قانون سازی ہو تاکہ مجوزہ ادارہ قوانین کا اطلاق کر سکے۔

برطانوی پریس کے معیار سے متعلق ایک سال تک جاری رہنے والی انکوائری کے بعد جسٹس لیویسن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پریس کے بارے میں شکایت سننے والا ادارہ، پریس کمپلینٹ کمیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

جسٹس لیویسن نےگذشتہ دہائیوں میں سیاستدانوں اور پریس کے درمیان موجود تعلقات پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے تباہ کن اثرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے پریس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔

انہوں نے تجویز کیا کہ برطانیہ کو ایک خود انضباطی ادارے کی ضرورت ہے جو پریس سے متعلق شکایات پر موثر انداز میں کارروائی کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ ’یہ ادارہ فردِ واحد کے مفادات، حقوق اور خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔‘

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ برطانوی پریس اپنے اعلیٰ معیارات کو برقرار رکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں دی گئی سفارشات پریس کی جانب سے استحصال کا شکار افراد کے حقِ شکایت کا تحفظ کرنے کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پریس نے آنے والی کئی دہائیوں تک کے لیے ’کئی افراد کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پریس کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے جن کے مفاد کی خاطر کام کرنے کا وہ دعویٰ کرتا ہے اور اسے ان کا احترام بھی کرنا چاہیے۔‘

’یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے کہ پریس اپنی آواز، طاقت اور اختیار سے معاشرے کے قوانین بنانے کے حق کو رد کر دے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب کے کون حقوق کے محافظوں کی حفاظت کرے گا یہ نہیں ہونا چاہیے کہ، کوئی نہیں۔‘

آخر میں انہوں نے کہا کہ اب گیند سیاستدانوں کے کورٹ میں واپس چلا گیا ہے۔

برطانوی دارالعوام میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیر اعظم نک کلیگ اور حزب اختلاف کی لیبر جماعت کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے اپنے اپنے بیانات دیے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لارڈ لیویسن کی رپورٹ پر اپنے رد عمل میں اس سے اصولی طور پر متّفق ہونے کی بات کی مگر انہوں نے اس کے مرکزی سفارش جس میں ایک خود انضباطی ادارے کی بات کی گئی ہے کو رد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے ماضی میں وہ کہہ چکے ہیں کہ پریس کے لیے کوئی آخری مواقع کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ لیونسن انکوائری کی تمام سفارشات پر عملدرآمد کروائیں گے اگر یہ سفارشات فضول نہ ہوئیں لیکن گزشتہ بدھ کو انہوں نے وزیراعظم کے وقفۂ سوالات میں کہا کہ وہ تمام جماعتوں کے مدد سے ایک متفقہ کوشش چاہیں گے تاکہ قوانین کو بہتر بنایا جا سکے اور اس جمود سے آگے بڑھا جا سکے۔

کیمرون کے بیان کے چند لمحوں بعد نائب وزیر اعظم نک کلیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف نئے قوانین ہی کسی نئے انضباطی ادارے کی آزادی اور خودمختاری کے ضامن بن سکتے ہیں۔

کچھ ایسے ہی پیرائے میں لیبر جماعت کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے بھی بات کی جنہوں نے کہا کہ لارڈ لیویسن کی تمام سفارشات کو من و عن لاگو کیا جانا چاہیے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس سب سے ایک نئی جوڑ توڑ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس میں نک کلیگ کے ساتھ لیویسن کی سفارشات کے حامی لیبر اور کئی ٹوری اراکین دارالعوام ہیں جو ڈیوڈ کیمرون سے متفق نہیں ہیں اور یہ سب دارلعوام میں ایک نئی اکثریت بناتے ہیں۔

بی بی سی کے نک رابنسن کے مطابق اس صورتحال میں بے شک یہ سب اراکین ڈیوڈ کیمرون کو شرمندہ کر سکتے ہیں اور ہرا سکتے ہیں لیکن ایک نئے قانون بنانے میں یہ سب موثر ثابت نہیں ہو سکے گا۔

اس کی وجہ ہے کہ برطانیہ میں حکومت پارلیمان میں ایک قانون کی منظوری کے وقت کا تعین کرتی ہے۔

نک رابنسن کے مطابق کیمرون نے اپنے مخالفین کو ایک اور چھڑی دی ہے جس سے وہ پیٹیں لیکن کیمرون کو پتا ہے کہ پریس مضبوطی سے ان کے پیچھے ہے۔

برطانوی نائب وزیر اعظم نک کلیگ برطانوی دارالعوام میں لیویسن انکوئری پر اپنا بیان وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے علیحدہ دیں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ دونوں کے درمیان برطانوی پریس کے بارے میں قوانین پر ایک متفقہ بیان پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے دونوں اپنا بیان علیحدہ علیحدہ دیں گے۔ دونوں سربراہان کو بدھ کے روز اس رپورٹ کی ایڈوانس کاپی دی گئی تھی۔

نک کلیگ کی پارٹی لبرل ڈیموکریٹس کے اراکین کا کہنا ہے اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ ’مخلوط حکومت میں کوئی بڑی خلیج یا رکاوٹ‘ پائی جاتی ہے۔

لارڈ جسٹس لیویسن کی یہ انکوئری برطانوی پریس کے طرز عمل، اخلاقیات اور کلچر پر ایک رپورٹ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق ایک بج کر تیس منٹ پر پیش کی جائے گی۔

لیویسن نے آٹھ مہینے تک میڈیا کی مداخلت کا نشانہ بننے والے مختلف افراد کے بیانات سنے۔

اس انکوئری کے سامنے پیش ہونے والوں میں برطانوی اداکار ہیوگرنٹ، گلوکارہ شارلٹ چرچ اور نوجوان خاتون ملی ڈاؤلر کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی اس سارے عمل میں شرمندگی اٹھانا پڑی جس میں ان کے ایس ایم ایس کرنے کے انداز کو سامنے لایا گیا تھا۔

دو ہزار صفحات پر مشتمل اس رپبورٹ میں پریس، سیاستدانوں اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس رپورٹ کی اشاعت سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے نائب دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے لیویسن رپورٹ کی گزارشات پر ایک مشترکہ حکومتی ردعمل ترتیب دیا جاے سکے مگر اس میں ان کو کامیابی نہیں ہوئی۔

بی بی سی کے سیاسی شعبے کے مدیر نک رابنسن نے کہا کہ دونوں رہنما بہت سارے معاملوں پر متفق ہوں گے مگر جن امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں ان پر دارالعوام میں علیٰحدہ بیانات دیں گے۔

لیویسن انکوئری کا قیام اب کالعدم اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے صحافیوں کی جانب سے ایک نوجوان لڑکی ملی ڈاؤلر کے فون میں ان کی ہلاکت کے بعد ہیکنگ کے سکینڈل کے سامنے آنے پر عمل میں لایا گیا تھا۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ میں پریس پر نظر رکھنے کے لیے ایک آزاد ادارے کے قیام کے ساتھ قانونی قواعد و ضوابط کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی جن پر یہ ادارہ اطلاق کروائے گا۔

کنزرویٹو جماعت کے بہت سارے اراکین اس طرح کے قانونی اقدامات کے حق میں نہیں ہیں جبکہ لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے اراکین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے قانون کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔

اس انکوئری کی وجہ بننے والے سکینڈل کے نتیجے میں اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو اشاعت کرنا پڑی تھی۔

برطانوی پریس اس وقت پریس کمپلینٹس کمیشن کے زریعے شکایات کا ازالہ خود ہی کرتا ہے۔

نک رابنسن کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا ایک نئے قانون کی ضرورت ہو گی جیسا کہ ہر کوئی آزادانہ قوانین پر عمل در آمد کے ادارے کی بات کر رہا ہے۔

اس رپورٹ کے بعد اس سے اگلے اقدامات آنے والے کئی مہینوں میں حکومت اور برطانوی دارالعوام کے لیے انتہائی مشکل مرحلہ ہو گا۔

وزیر اعظم کیمرون نے پہلے کہا تھا کہ وہ لیویسن انکوائری کی تمام سفارشات پر عملدرآمد کروائیں گے اگر یہ سفارشات ’فضول‘ نہ ہوئیں لیکن بدھ کو انہوں نے وزیراعظم کے وقفۂ سوالات میں کہا کہ وہ تمام جماعتوں کے مدد سے ایک متفقہ کوشش چاہیں گے تاکہ قوانین کو بہتر بنایا جا سکے اور اس جمود سے آگے بڑھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ’ایک آزادانہ نگرانی کا نظام چاہتے ہیں ’جو کہ نتائج سامنے لا سکے اور جس پر عوام کا اعتماد ہو۔‘

لیبر جماعت کے رہنما ایڈ ملی بینڈ جنہیں اس رپورٹ کی ایک کاپی اشاعت سے کچھ دیر پہلے فراہم کی گئی تھی کا کہنا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ ہم اس پر بین الجماعتی سطح پر کام کر سکیں کیونکہ یہ ایک بہت ہی نادر موقع ہے حقیقی تبدیلی کا اور میں امید کرتا ہوں کہ دارالعوام اسے ممکن بنا سکے گا۔‘

نگرانی کے لیے ممکنات

  • پریس کے لیے سخت قوانین جن پر قانون عملدرآمد کروا سکے
  • قوانین پر خود عمل در آمد کروانے والا ایک ادارہ جس کی قانونی حیثیت ہو اور جو اخبارات کو مجبور کرے کے وہ اس میں شامل ہوں۔
  • نئی پریس کمپلینٹس کونسل: ایک نیا مضبوط خود نگرانی کا ادارہ بنایا جس کا ایک تحقیقاتی حصہ ہو۔ جبکہ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اس ادارے کا تعلق اخبارات سے نا ہو۔
  • اخبارات کا محتسب ادارہ جو کہ پریس کمپلینٹس کونسل سے علیحدہ کام کرے اور اخبارات کے معیار سے متعلقہ امور کو دیکھے۔

نک کیلگ نے دارالعوام کے لیے اپنے گھر سے نکلتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو اپنے جوابات میں ایک توازن قائم کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا ’اس سارے عمل میں لوگ دو چیزیں ہوتی دیکھنا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک مضبوط، آزاد اور اختیار رکھنے والا پریس جو صاحب اقتدار لوگوں کا احتساب کر سکے اور دوسرا معصوم عوام کی حفاظت کر سکے جو کہ اس کے دست درازی کا نشانہ بنتے ہیں جب یہ اپنی حدود پار کرتا ہے۔ یہ وہ توازن ہے جو ہم قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں او امید ہے کہ ہم کرپائیں گے۔‘

برسٹل سے تعلق رکھنے والے کرس جیفرائس کو جوانا ییٹس کے قتل کے الزام میں غلطی سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں انہوں نے بہت سے اخبارات کے خلاف غلط معلومات پر مقدمہ کر کے ہرجانہ وصول کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا تجربہ ’بہت ہولناک‘ تھا۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو فور کو بتایا کہ وہ ایک آزاد نگران ادارہ چاہتے ہیں جس کے پاس تحقیقات کا اختیار ہو اور جسے قانونی استحقاق دیا جائے کہ وہ ’پریس کے ان حصوں کو نظم و ضبط میں لا سکے جو ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘

پریس کمپلینٹس کمیشن کے سابق سربراہاور ڈیلی میل سے تعلق رکھنے والے صحافی پال ہوروکس نے کہا کہ جہاں سخت ضوابط ضروری ہیں ’وہیں ہم نہیں چاہیں گے کہ ان کو سخت کر کے کسی قسم کے قانون میں بدل دیا جائے کیونکہ ان سے صحافت کی آزادی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘

اس انکوئری کے سامنے سابق بر طانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر، وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، نیوز کورپ گروپ کے مالک روپرٹ مرڈوک، ادارکار ہیو گرنٹ، اداکارہ سیانا ملر اور گلوکارہ شارلٹ چرچ بھی شامل ہیں۔

اسی طرح بی بی سی ریڈیو فائو لائیو نے ایک رائے عامہ کا جائزہ لیا جس کے مطابق برطانیہ کی آبادی کے دو تہائی بالغ افراد کا پریس پر بلکل یا بہت کم اعتماد ہے کہ اخبارات سچ بتاتے ہیں۔

اس جائزے کے لیے کوم ریس کمپنی کی جانب سے ایک ہزار افراد کو فون پر سوالات کیے گئے تھے۔ ان افراد میں سے نصف کا یہ کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اخبارات پر ایسے قوانین اور ضوابط کا اطلاق چاہتے ہیں جن پر عدالتیں عمل در آمد کروائیں۔

اس انکوئری نے اب تک برطانوی وزیر جیریمی ہنٹ کے وزارتی کرئیر کو کچھ وقت کے لیے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اسی معاملے میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی شرمندگی اٹھانا پڑی جس میں ان کے ایس ایم ایس کرنے کے انداز کو سامنے لایا گیا تھا اور بعض سیاستدانوں، پولیس کے افسران اور اخبارات کے مالکان اور منتظمین کے آپس کے تعلقات پر سے بھی پردہ اٹھایا تھا۔

اس انکوائری رپورٹ کی اشاعت کے بعد اب وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پر دباؤ بڑھ جائے گا کہ وہ اب اس پر کچھ عملی اقدامات کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔