دمشق: شدید لڑائی جاری، موبائل، انٹرنیٹ معطل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 01:42 GMT 06:42 PST
شام میں جنگ کی ایک تصویر

شام میں بیس ماہ قبل صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی

شام کے دارالحکومت دمشق اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور دمشق کے مضافاتی علاقوں میں شدید گولہ باری کی خبریں ہیں۔

دوسری جانب ہوائی اڈے کے اطراف میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے سبب ہوائی اڈہ بند ہے اور فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہیں۔

ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ علاقے میں باغیوں کے ساتھ ہونے والی شدید لڑائی بتائی گئی ہے۔

شام میں حکومت شہر کے مشرقی ضلع میں باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

جھڑپوں کے دوران علاقے میں فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات بند کر دی گئی ہیں۔ اس سے پہلے بھی شامی حکومت نے بڑی کارروائیوں کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی معطل کر دی تھی۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر رابطے کے ذرائع منقطع کرنا غیر معمولی اقدام ہے۔

شام میں بیس ماہ قبل صدر بشارالاسد کے خلاف ہونے والی بغاوت کے بعد سے مواصلات میں آنے والا یہ سب سے بڑا خلل ہے۔ دمشق کے علاوہ وسطی شام کے علاقوں میں جمعرات کی دوپہر سے فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

تاہم شامی حکومت کے وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ نظام کو دہشت گردوں نے کاٹا ہے جسے انجینیئرز ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شام میں انٹرنٹ کا استمعال کرتا ہوا ایک شخص

شام میں حالیہ تشدد کے دوران سماجی کارکنان نے انٹرنٹ کا استمعال جنگ کی فوٹیج شائع کرنے کے لیے کیا ہے

دبئی کی فضائی کمپنی ایمریٹس اور مصر کی فضائی کمپنی ایجپٹ ائیر نے دمشق کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں ہیں۔

شامی حکومت کے ذرائع کے مطابق ایک جہاز اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ایک سو پچاس افراد کو لے کر جمعرات کو دمشق سے روانہ ہوا ہے۔ ان کی متبادل ٹیم پہلے ہی وہاں پہنچ چکی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کی شام خبر دی تھی کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑک کو فوجی کارروائی کے بعد محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق مرکزی شاہرہ اب بھی بند ہے جبکہ علاقے سے لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ علاقے میں اس وقت فوجیوں کو روانہ کیا گیا جب باغیوں کی جانب سے ہوائی اڈے کے رن وے پر مارٹر گولے پھینکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق باغی ہوائی اڈے پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اور ان کے پاس حالیہ دنوں میں سرکاری افواج سے جھڑپوں کے دوران چھینا ہوا اسلحہ بھی تھا جس میں بھاری ہتھیار شامل ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق اب بھی کئی مسافروں کے ہوائی اڈے کے اندر محصور ہو جانے کی اطلاعات ہیں تاہم اس بارے میں کوئی خبر نہیں کہ آیا کوئی باغی بھی ہوائی اڈے کے اندر موجود ہے یا نہیں۔

ہوائی اڈے کی طرف جانے والی شاہراہ باغیوں کے زیرِ اثر علاقے سے گزرتی ہیں اور یہاں سے اکثر حکومتی افواج پر حملے ہوتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج القاعدہ عناصر کے ساتھ لڑ رہے ہیں جو زیادہ تر دوما اور درایا کے نواح میں موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے امن افواج میں شامل دو آسٹریلوی فوجی بھی اس وقت زخمی ہوئے جب ان کا کارواں ہوائی اڈے کی جانب جاتے ہوئے حملے کا نشانہ بنا۔ آسٹریلیا کی وزراتِ دفاع کے مطابق فوجیوں کو آنے والے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔