فلسطین کا نیا درجہ، کیا فرق پڑا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2011 میں اقوام متحدہ کا پورا ممبر بننے کی فلسطین کی کوشش ناکام رہی تھی کیونکہ سکیورٹی کونسل اس کے حق میں نہں تھی۔

فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کا مطلب کیا ہے؟ اس حوالے سے کچھ سوالات جو ذہن میں آتے ہیں اور ان کے جوابات۔

فلسطینیوں کا مطالبہ کیا تھا؟

فلسطینی عوام طویل عرصے سے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے خواہش مند ہیں۔ یہ ریاست مغربی کنارہ بشمول مشرقی یروشلم اور غزہ پر مشتمل ہو۔ سنہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی لیبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ تاہم دو دہائیوں کے بعد بھی اس معاملے کا مستقل حل نہیں نکل پایا ہے۔ براہِ راست مذاکرات کا تازہ ترین راؤنڈ بھی سنہ 2010 میں ناکام رہا۔

اس کے بعد سے فلسطینی رہنماؤں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔ اس حکمت عملی کے تحت انہوں نے مختلف ممالک سے استدعا کرنی شروع کی کہ فلسطین کو ایک آزاد ملک تسلیم کریں۔ اور اس ملک کی سرحدیں اس جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق ہوں جو جون 1967 میں اسرائیل اور مغربی کنارے کو علیحدہ کرتی ہے۔

ستمبر 2011 میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر اور پی ایل او کے چیئرمین محمود عباس نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا مکمل ممبر بننے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی یہ کوشش دو ماہ بعد ناکام ہوئی جب سکیورٹی کونسل نے یہ کہا کہ اس حوالے سے کونسل ’متفقہ سفارشات‘ مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ محمود عباس نے پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غیر رکن مبصر ریاست کے درجے کے لیے درخواست دی۔ یہ درجہ وہی ہے جو اقوام متحدہ میں ویٹیکن کا ہے۔ اس سے قبل فلسطین کو صرف ’مستقل مبصر‘ کا درجہ حاصل تھا۔

اس درجے کو حاصل کرنے کے بعد فلسطینی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی بحث میں حصہ لے سکیں گے۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں کا ممبر بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا ممبر بھی بنا جا سکتا ہے لیکن نہ تو یہ آسان کام ہو گا اور نہ ہی خود بخود ہو جائے گا۔ اگر فلسطینیوں کو آئی سی سی کی ٹریٹی پر دستخط کرنے کا اجازت دی گئی تو فلسطینیوں کو امید ہے کہ وہ اس عدالت میں قانونی چارہ جوئی کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر قبضہ کے بارے میں۔

عمومی طریقہ عمل کیا تھا؟

فلسطینیوں کو یہ درجہ ملنے کے امکانات قوی تھے کیونکہ اس قرارداد کو 193 ممبران ممالک میں سے سادہ اکثریت نے منظور کرنا تھا۔ اور اس طریقہ عمل میں ویٹو کا بھی خوف نہیں تھا کیونکہ وہ صرف سکیورٹی کونسل ہی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پی ایل او کے مطابق 130 ممالک نے ان کو پہلے ہی سے خود مختار ملک کا رینک دے دیا ہے۔ فلسطینی حکام امید کر رہے تھے کہ ان کو 150 سے 170 ممالک کی حمایت حاصل ہو گی تاکہ امریکہ اور اسرائیل کو معلوم ہو سکے کہ وہ اس معاملے میں کتنے تنہا ہیں۔ تاہم 138 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

ناکامی کیوں؟

فلسطین کا جانب سے مکمل ممبر کا درجہ لینے کی کوشش اس لیے ناکام ہوئی کہ اس کو پندرہ رکنی سکیورٹی کونسل نے منظور کرنا تھا۔ سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے اتحادی امریکہ نے بھرپور مہم چلائی اور فلسطین نو ووٹ لینے میں ناکام رہا۔

صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے ستائیس ستمبر کو خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ غیر رکن مبصر ریاست کے درجے کے لیے اقوام متحدہ کے اسی سیشن میں درخواست کریں گے۔

محمود عباس نے اپنا ارادہ بتا دیا اور ان کے ساتھیوں نے مختلف ممالک سے قرارداد پیش کرنے سے قبل رابطے شروع کردیے۔ لیکن یہ قرارداد امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے داخل نہیں کرائی گئی۔

فلسطین کی جانب سے مکمل ممبر کا درجہ لینے کی کوشش اس لیے ناکام ہوئی کہ اس کو پندرہ رکنی سکیورٹی کونسل نے منظور کرنا تھا۔ سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے اتحادی امریکہ نے بھرپور مہم چلائی اور فلسطین نو ووٹ لینے میں ناکام رہا۔ یاد رہے کہ سکیورٹی کونسل سے قرارداد منظور کرانے کے لیے کم از کم نو ووٹ درکار ہوتے ہیں۔بہرحال اگر نو ووٹ مل بھی جاتے تو امریکہ ویٹو کا استعمال کردیتا۔

فلسطین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکمل رکنیت حاصل کرنے کا اردادہ ترک نہیں کیا بلکہ اس کو کچھ دیر کے لیے مؤخر کیا ہے۔

کیا یہ علامتی ہے یا حقیقتاً تبدیلی آئے گی؟

سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا علامتی ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی سے اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ مستقل امن معاہدے کی بنیاد یہ سرحدیں ہونی چاہئیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو ان سرحدوں کے مطابق مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1967 کے بعد بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ جیسے کہ پانچ لاکھ یہودی مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں دو سو بستیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ لیکن بین الاقوامی قوانین میں یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔

دوسری جانب فلسطینیوں کا یہ کہنا ہے کہ غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد مذاکرات میں ان کی پوزیشن مستحکم ہو گی، جیسے کہ یروشلم، یہودی بستیاں، سرحدی نشاندہی، فلسطینی مہاجرین کی واپسی کا حق، پانی کے حقوق اور سکیورٹی انتظامات۔

فلسطینی کیا قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں؟

اپریل میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کورٹ کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے کے یکطرفہ اعلامیے کو مسترد کردیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے آرٹیکل 12 کے مطابق ایک ’ریاست‘ ہی اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے کی درخواست جنرل سیکریٹری کو دے سکتی ہے۔ اور جہاں پر یہ واضح نہ ہو کہ آیا جس نے درخواست دی ہے وہ ’ریاست‘ ہے یا نہیں تو اس بارے میں سیکریٹری جنرل جنرل اسمبلی سے مشورہ مانگ سکتا ہے۔

گارنٹی نہیں

فلسطین نہ تو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا ممبر خود بخود بن جائے گا اور نہ ہی اس کی کوئی گارنٹی ہے لیکن پھر بھی اس حوالے سے نئی درخواست ضرور دی جاسکے گی۔

فلسطین نہ تو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا ممبر خود بخود بن جائے گا اور نہ ہی اس کی کوئی ضمانت ہے لیکن پھر بھی اس حوالے سے نئی درخواست ضرور دی جاسکے گی۔

فلسطین کے مذاکرات کار نے حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو بین الاقوامی ٹریبیونلز کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے ان کو چاہیے کہ وہ جرائم کرنا بند کردیں کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی احتساب ہو۔‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے ان تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینی اسرائیل پر جنیوا کنونشز کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کریں گے۔

یہ اب کیوں ہوا ہے؟

اس کی بڑی وجہ مذاکرات میں تعطل ہے۔ اقوام متحدہ کے مکمل ممبر بننے کی کوشش میں فلسطینیوں نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے دی گئی تاریخ کا سہارا لیا تھا۔ اوباما نے ایک سال قبل جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ستمبر دو ہزار گیارہ دو ریاستی حل کی ڈیڈ لائن ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے اسی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے کوششیں تیز کردی تھیں۔ لیکن بعد میں ان ممالک نے یہ تاریخ بڑھا کر سال کے آخر تک کردی تھی۔

اوباما کا اعلان

اقوام متحدہ کے مکمل ممبر بننے کی کوشش میں فلسطینیوں نے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے دی گئی تاریخ کا سہارا لیا تھا۔

فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ریاستی ادارے قائم کیے اور اب وہ ریاست قرار دیے جانے کے لیے تیار ہیں۔ ورلڈ بینک کا بھی یہی کہنا ہے، اگرچہ اس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ آیا مغربی کنارے اور غزہ کی معیشت اتنی مستحکم ہے کہ مستقبل کی ریاست کا بوجھ برداشت کرسکے۔

پچھلے سال فلسطینیوں کو ممبر بننے کی بڑی امید تھی لیکن ان کو مایوسی ہوئی۔ لیکن یہ مایوسی اس وقت کچھ کم ہوئی جب فلسطین کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا ممبر بنا لیا گیا۔

یہ پچھلے اعلامیوں سے کیسے مطابقت رکھتا ہے؟

سنہ 1988 میں پی ایل او کے سابق سربراہ یاسر عرفات نے یکطرفہ طور پر فلسطین ریاست کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد ممالک نے اس کو تسلیم کرلیا۔ ان ممالک میں عرب ممالک، کمیونسٹ اور غیر وابستہ ممالک اور لاطینی امریکہ کے چند ممالک شامل تھے۔

فلسطین کے غیر رکن مبصر ریاست کے درجے سے زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ اقوام متحدہ عالمی تنظیم ہے اور بین الاقوامی قوانین کی اتھارٹی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔