بھارتی مہاراجہ کی سخاوت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 16:18 GMT 21:18 PST
مہاراجہ کا کنواں

انگلینڈ کے اس کنویں کو بنارس کے مہاراجہ نے بنوایا تھا

بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں برطانوی تعاون پر تو کافی بات ہوتی ہے لیکن یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ انیسویں صدی میں جنوبی انگلینڈ کے ایک گاؤں کو بھارت سے آنے والے تعاون کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

یہ بات اس وقت کی ہے جب انیسویں صدی کے وسط میں جنوب مشرقی انگلینڈ کے ایک گاؤں میں ایک بچے نے قحط سالی کے دوران گھر میں موجود پانی کا آخری قطرہ تک پی لیا تھا۔

وہاں سے ہزاروں میل کے فاصلے پر بھارت میں وارانسی یعنی بنارس کے مہاراجہ کو اس بچے کی کہانی یو پی یعنی اس وقت کے یونائٹڈ پروونس کے قائم مقام گورنر ایڈورڈ اینڈرسن ریڈ نے سنائی تھی۔

چلٹرن ہلز سے آنے والی اس خبر سے متاثر ہو کر مہاراجہ نے سٹوک رو نامی اس گاؤں میں پینے کے پانی کے کنویں کے لیے پیسے دیے تھے جسے آج بھی سنہرے ہاتھی کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے۔

مہاراجہ کے کنویں کے نام سے موسوم یہ کنواں اس علاقے میں موجود بہت سارے کنوؤں میں سے ایک ہے۔ اس طرح کے تمام کنوؤں کو بھارت کے شاہی تعاون اور ديگر مخیر حضرات کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا۔

’ڈیپنگ ان دی ولز‘ کی مصنفہ انجیلا سپنسر ہارپر نے کہا کہ ’یہ کنواں اپنی تاریخ اور بنانے والے کے لحاظ سے غیر معمولی ہے۔ ایسے وقت میں جب برطانوی سلطنت ساری دنیا میں پھیل رہی تھی مہاراجہ کی جانب سے دکھائی گئی اس فراخدلی نے بھارت کے امراء کو برطانیہ میں کنویں کھدوانے کی تحریک دی۔‘

تین سو اڑسٹھ فٹ گہرا یہ کنواں سینٹ پال کیتھڈرل کی اونچائی کے برابر ہے۔ اسے دو مزدوروں نے باری باری اپنے ہاتھوں سے کھودا تھا اور پھر اس کے گرد اینٹیں لگائی تھیں۔

اس کے چار میٹر کے قطر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ انتہائی نازک کام تھا اور اس میں جان کا خطرہ تھا کیونکہ ایک سو پچاس فٹ کے بعد زمین کے اندر کے جانب دھنسنے کا خطرہ تھا۔

شاہی استقبالیہ

"اس گاؤں کے لوگوں سے مہاراجا کا زبردست رشتہ تھا حالانکہ مہاراجا وہاں کبھی نہیں گئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ وہاں جاتے تو لوگ انھیں شاہی استقبالیہ دیتے"

سپنسر ہارپر نے کہا کہ وہ دونوں موسم سرما میں بھی کنواں کھودتے رہے حالانکہ ایسے سخت موسم اور اندھیرے میں کام کرنا کتنا مشکل رہا ہوگا۔ بہرحال کھودنے کا کام ایک سال میں پورا ہو چکا تھا۔

چلٹرن ہلز جانے والے لوگ اس کنویں پر بنی تیئیس فٹ کی گنبد نما تعمیر کو دیکھ سکتے ہیں۔ مہاراجہ نے نہ صرف کنواں کھدوایا بلکہ اس کے پاس پانی نکالنے کے آلات بھی نصب کرائے اور سنتری کے طور پر ہاتھی کی مورتی لگوائی۔

سرکاری طور پر اس کی شروعات چوبیس مئی اٹھارہ سو چونسٹھ میں ہوئی۔ اس پر اس وقت کے تین سو ترپن پاؤنڈ کا خرچ آیا تھا اور اس کی حفاظت کے لیے اس کے ساتھ نگراں کی ایک کٹیا کی تعمیر بھی کرائی گئی جس پر چوہتر پاؤنڈ، چودہ سنٹس اور چھ ڈیم کا خرچ آیا تھا۔

لیکن اس کنویں پر کیے گئے اس خطیراخراجات سے کچھ مقامی افراد خوش نہیں تھے۔

مہاراجہ کے کنویں پر لکھی ایک بالتصویر تاریخ کے مطابق اس خرچیلی تعمیر نے کچھ لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا تھا کہ یہاں کے غریب لوگ بہت زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔

بہر حال ستر برسوں تک کنویں نے اپنی خدمات فراہم کیں جبکہ مہاراجا نے چار ایکڑ پر محیط چیری کے ایک باغ کے لیے بھی امداد فراہم کی تھی۔

بنارس کے مہاراجا

بنارس کے مہاراجا جنھوں نے اس کنویں کو بنوایا وہ کبھی انگلینڈ نہیں گئے۔

سپنسر ہارپر کا کہنا ہے کہ ’مہاراجہ نے تاحیات اس کنویں کا خرچ اٹھایا اور مشکل حالات میں گاؤں والوں کی دیکھ بھال بھی کی۔‘

ان کا کہنا ہے ’اس گاؤں کے لوگوں سے مہاراجہ کا زبردست رشتہ تھا حالانکہ مہاراجہ وہاں کبھی نہیں گئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ وہاں جاتے تو لوگ انھیں شاہی استقبالیہ دیتے۔‘

اسی طرح مہاراجہ کے کہنے پر وہاں خاص موقعوں پر دیگر چیزیں بھی کی جاتی رہیں جیسے اٹھارہ سو اکہتر میں لارنے کے مارکیز کی شہزادی لوئی کے ساتھ شادی کے موقعے سے مہاراجہ کے خرچ پر ایک فٹ پاتھ بنایا گیا تھا۔

انیس سو بیاسی میں جب ملکہ وکٹوریہ ایک جان لیوا حملے میں بچ گئی تھیں تو مہاراجہ نے پورے گاؤں کو مفت بریڈ، چائے اور شکر تقسیم کروایا تھا اور دوپہر کا کھانا بھی دیا تھا۔

اٹھارہ سو چھیاسی میں ریڈ کی موت کے بعد اس کنویں کے استعمال میں کمی آ گئی۔ انیس سو ستائیس میں پائپ لائن کی شروعات نے اس کی قسمت کا فیصلہ کر دیا اور اس کنویں کا استعمال ختم ہوگيا۔

کنویں کا صد سالہ جشن

کنویں کے صد سالہ جشن پر پندرہ سو افراد نے شرکت کی تھی۔

انیس سو اکسٹھ میں بنارس کے مہاراجہ نے ملکہ الزبتھ کے بھارتی دورے پر اس کنویں کے سو سال پورے ہونے کی بات کہی اور انیس سو چونسٹھ میں آٹھ اپریل کو سٹوک رو میں شہزادہ فلپ کے ساتھ پندرہ سو لوگوں نے اس کے جشن میں شرکت کی۔

اس موقع پر بھارت کے ساتھ تعلق کو یاد گار بنانے کے لیے مقدس ترین تصور کیے جانے والے دریائےگنگا کا پانی کنویں میں ڈالا گیا۔

سپنسر ہارپر کا کہنا ہے کہ ’اس کنویں نے یقینی طور پر یہاں کے لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا کیونکہ سٹوک رو کے علاقے میں پانی کا قدرتی ذریعہ نہیں اور یہاں کے لوگ چھوٹے چھوٹے تالاب سے پانی لاکر پیتے تھے جس سے وہ بیماریوں کا شکار ہوتے تھے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔