شام: حمص میں کار بم دھماکہ، پندرہ ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 دسمبر 2012 ,‭ 17:32 GMT 22:32 PST

شام میں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مہم میں اب تک چالیس ہزار کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حمص شہر میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق حمص شہر کے الحمراہ ضلع میں ہونے والے اس کار بم دھماکے میں چوبیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دریں اثناء دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے کنٹرول والے اضلاع میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی توپ خانے اور فضائی حملوں کے ذریعے کارروائی جاری ہے۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے اب تک صدر بشار الاسد کے خلاف جاری تحریک میں چالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حمص شام کا تیسرا بڑا شہر ہے اور گذشتہ بیس ماہ کے دوران حکومت مخالف تحریک کا ایک اہم گڑھ ہے۔

برطانیہ میں شام کے حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق کار بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

دمشق کے مضافات میں حکومت نے دو دنوں تک انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل رکھنے کے بعد بحال کر دی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے حلب شہر میں بھی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شدت پسند گروپ عوامی تحریک کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔