اسرائیلی سفیروں کی طلبی، برطانیہ اور فرانس کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 12:48 GMT 17:48 PST

برطانیہ اور فرانس نے مشرقی یروشلم میں نئے مکانات بنانے کے اعلان پر اچتجاج کیا ہے

برطانیہ اور فرانس نے اپنے اپنے ملک میں موجود اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے ان سے احتجاج کیا ہے، دونوں ممالک نے یہ احتجاج اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تین ہزار نئے مکانات کی تعمیر کے اعلان پر کیا ہے۔

برطانیہ کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے ’امن کے لیے دی گئی یقین دہانیوں پر کہ وہ فلسطین سے امن چاہتا ہے‘ کو مشتبہ کر رہا ہے۔

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر مزید تین ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد سامنے آیا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان گی مون نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں مزید مکانات تعمیر کرنے کا اعلان امن کی کوششوں کے لیے ایک تباہ کن دھچکہ ثابت ہو گا۔

اس کے علاوہ سویڈن نے بھی سٹاک ہوم میں تعینات اسرائیل سفیر کو طلب کیا جبکہ روس اور جرمنی نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ’برطانیہ اسرائیل کا تین ہزار مکانات اور ای1 بلاک میں تعمیرات کے اعلان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ دو ریاستی منصوبے کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

بان گی مون کا کہنا تھا کہ ان مکانات کی تعمیر کے بعد مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں کے مغربی کنارے سے روابط مکمل طور پر منقطع ہو جائیں گے۔

بان گی مون نے اسرائیلی اعلان کے بارے میں شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اعلان سے مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا

بان گی مون نے اسرائیلی اعلان کے بارے میں شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’اس اعلان سے مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔‘

اس سے قبل امریکہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقوں پر مکانات تعمیر کرنے کے اعلان پر تنقید کی تھی۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا اعلان مذاکرت کے لیے ایک ’دھچکا‘ ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی ذمہ دار کیتھرین ایشٹن کا بھی کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر تعمیرات کا اعلان پریشانی کا باعث ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد مغربی کنارے میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ اب ان کے پاس بھی ایک ملک ہے۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد محمود عباس فلسطین واپس آئے جہاں ان کا ایک ہیرو کی طرح شاندار استقبال کیا گيا۔

رملہ میں ان کی واپسی پر جشن کا ماحول تھا جہاں عوام سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے اس درجے کو حاصل کرنے کے لیے طویل جد و جہد کرنی پڑی اور انتہائی درجے کا دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن فلسطینی لوگ ثابت قدم رہے اور کامیاب ہوئے۔

فلسطینی عوام اس وقت محمود عباس کی جماعت الفتح اور حماس کے درمیان منقسم ہے۔

غزہ کے علاقے پر حماس کا کنٹرول ہے اور رملہ اور مغربی کنارے پر فتح کا غلبہ ہے۔

فلسطینی موقف

فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں کو فلسطینی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جن علاقوں پر اسرائیل نے سنہ انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا

ادھر اسرائیل کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس سال فلسطینیوں کے لیے جو ٹیکس وصول کیا گيا ہے وہ اسے منتقل نہیں کریں گے۔ اسرائیل کا یہ قدم بھی اقوام متحدہ میں فلسطین کی بڑھی ہوئی حیثیت کے تناظر میں کیا ہے۔ وزیر خزانہ یوول سٹینتز کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شکل میں وصول کی جانے والی رقم تقریباً بارہ کروڑ ڈالر ہوگی جس کا استعمال فلسطینی انتظامیہ کے قرض کی ادائیگی کے لیے کیا جائے گا۔ فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیلی کی بجلی پیدا کرنے والی ایک کمپنی سے قرض لے رکھا ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دے دیا تھا جس کی امریکہ اور اسرائیل نے مخالفت کی۔ غیر رکن مبصر کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد اب فلسطین کو اقوامِ متحدہ کے اداروں میں شمولیت حاصل ہو جائے گی جن میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف بھی شامل ہے۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں کو فلسطینی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جن علاقوں پر اسرائیل نے سنہ انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتین یاہو نے کہا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ میں ہونے والا فیصلہ، زمینی حقائق نہیں بدلے گا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’اس سے فلسطینی ریاست کی انتظامیہ ترقی نہیں کرے گی بلکہ یہ معاملات کو مزید تاخیر کا شکار کرے گا‘۔

جبکہ فلسطینی حکام کا موقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد امن بات چیت کو ختم کرنا نہیں بلکہ فلسطینی اختیار میں اضافہ کرنا اور اس خطے کی وضاحت کرنا ہے جسے وہ فلسطینی ریاست کے طور پر چاہتے ہیں۔ اس میں وہ علاقہ بھی شامل ہے جو اسرائیلی آبادکاری کے باعث متاثر ہوا ہے۔

مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر قبضے کے بعد سے تعمیر کی گئی ایک سو اسرائیلی آبادیوں میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی رہائشی ہیں۔

ان آبادیوں کی بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی مانا جاتا ہے تاہم اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین دو دہائیوں سے جاری مذاکرات کسی حتمی حل پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔