ہلبجہ کے خوفناک کیمیائی ہتھیار

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 19:21 GMT 00:21 PST

آج سے تقریباً پچیس برس پہلے عراق کے شمالی قصبے ہلبجہ میں عراقی افواج نے کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعہ کے پچیس برس بعد اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ وہ کونسا ملک اور ممکنہ طور پر کونسی فیکٹری تھی جس نے عراق کو چند کیمیائی ہتھیار فراہم کیے تھے؟

عراق کے شمالی قصبے ہلبجہ میں سولہ مارچ سنہ انیس سو اٹھاسی کو کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا اور میں نے اس سے پہلے ایسا برا منظر نہیں دیکھا تھا۔

اس حملے کے بعد میں نے ہلبجہ کی گلیوں کی دیواروں کے ساتھ مسخ شدہ لاشیں دیکھیں۔

عراق کے سابق صدر صدام حسین کے ساتھیوں کی جانب سے ہلبجہ میں پھینکے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں سے بچنے کا ہلبجہ کے شہریوں کے پاس کوئی طریقہ نہ تھا۔

میں ایران عراق جنگ کے اوائل میں سپاہیوں کے خلاف استعمال کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا بہت خوفناک نتیجہ دیکھ چکا تھا، تاہم ہلبجہ کے عام شہری جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل تھے ان پر ان کا استعمال بہت ہی زیادہ خوفناک تھا۔

عراق کی ائیر فورس کی جانب سے حکومتی مخالفین کے خلاف استعمال کی جانے والی گیس کا فوری اثر ہوتا تھا۔

میں نے عراق میں ایک ایسا گھر دیکھا جس کے ایک کمرے کی چھت میں چھید کر کے جب بم کمرے میں گرا تو وہاں متعدد افراد کھانا کھا رہے تھے۔ اس بم کے ذریعے نکلنے والی گیس نے ایک لمحے میں تمام افراد کو موت کی نیند سُلا دیا۔

اس گیس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک بوڑھے کو روٹی کے نوالہ کھاتے ہوئے موت کی نیند سلا دیا جبکہ ایک دوسرا شخص جو اس وقت کسی کے ساتھ مذاق کر رہا تھا اس کی ہنسی درمیان میں ہی رک گئی تھی جبکہ کمرے میں موجود دیگر افراد کی موت بہت زیادہ تکلیف سے ہوئی تھی۔

میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کی لاش تقریباً ایک دائرے میں جھول رہی تھی اور اس کے سر کا پچھلا حصہ اس کے پیر کو چھو رہا تھا۔

اس عورت کے کپڑوں خون اور الٹی سے بھرے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر شدید تکلیف کے آٰثار نمایاں تھے۔

ان افراد کو صرف اس لیے ہلاک کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران ہلبجہ سے گزرنے والی ایرانی فوجیوں کو خوش آمدید کہا تھا۔

اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین اور ان کے ایک رشتہ دار علی حسن جو ’کیمیکل علی‘ کے نام سے معروف تھے انھوں نے افراد کو نشانِ عبرت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میں ایرانی فضائیہ کے ایک جہاز کے ذریعے غیر ملکی صحافیوں کے ایک چھوٹے گروپ کے ہمراہ عراقی قصبے ہلبجہ پہنچا۔

ایرانی حکومت دراصل عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین کی حکومت کے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کو دنیا پر آشکار کرنا چاہتی تھی۔

جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے لیے مبینہ طور پر عراق کے لیے کیمیائی ہتھیار بنانے والوں کا ثبوت تلاش کرنا بہت مشکل ہے تاہم ہمیں معلوم ہے کہ عراق میں چند کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جو اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اہم اطلاع ہے۔

کردوں کی علاقائی حکومت نے ان ہتھیاروں کی موجودگی کا پتہ چلانے کے لیے ایسے منصوبوں کی ابھی تک منظوری نہیں دی۔

عراق کی علاقائی حکومت کے ایک سینیئر وزیر کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے اور متاثرین کی خاطر سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر کیمیائی ہتھیار فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی شناخت ہو سکتی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کا سوچا جا سکتا ہے۔

روس بھی کیمیائی ہتھیاروں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین نے روس سے یہ ہتھیار مانگے ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس وقت کی مغربی جرمنی کی کیمیائی صنعت کیمیائی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے معاہدوں سے مبرا تھی، تاہم یہ ممکن ہے کہ دوسرے ممالک کیمیائی ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔