جاپان: ملک بھر کی سرنگوں کے معائنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 12:40 GMT 17:40 PST

اس حادثے میں کئی کاریں کریش ہوگئی اور متعدد افراد ہلک ہوئے ہیں

جاپان کی حکومت نے اتوار کے روز مہلک سرنگ حادثے کے بعد ہنگامی طور پر ملک کے تمام سرنگوں کے معائنے کا حکم دیا ہے۔

ٹوكيو سے اسّی کلو میٹر مغرب میں ساساگو سرنگ کی چھت گرنے کا واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبج آٹھ بجے پیش آیا تھا۔

سرنگ کی چھت گرنے کے بعد آگ لگ گئی تھی جس میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

حکومت نے اس حادثے کی بھی انکوئری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ہائي وے پر کام کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سرنگ کی چھت جن آہنی راڈوں پر ٹکی تھی وہ شاید ڈھیلے پڑگئے تھے اس لیے یہ حادثہ پیش آيا۔

جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت انفراسٹرکچر، ٹرانسپوٹ اور سیاحت نے ہائي وے پر کام کرنے والے ان حکام سے ملک کے تمام ایسی سرنگوں کی جانچ کا حکم دیا ہے جو وقتا فوقتا یہ کام کرتے رہتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق متاثرہ سرنگ کی کچھ روز پہلے تفتیش کی گئی تھی لیکن کمپنی نے اس میں مرمت کا کام نہیں کیاتھا۔

حادثے کے بعد کاروں میں آگ لگ گئی تھی

تحقیقات میں اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ آخر دو ماہ قبل ہی جب اس سرنگ کی معائنہ ہواتو پھر یہ حادثہ کیوں پیش آیا۔

ساساگو سرنگ کی منتظم کمپنی سینٹرل نپو ایکسپریس وے کے اہل کار موتوہیرو تکامسوا کا کہنا ہے کہ سریوں کی خرابی کے سبب یہ حادثہ پیش آیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا ’ اس وقت ہم صرف یہی فرض کر سکتے ہیں کہ بالائي اینکر بولٹ ڈھیلے پڑ گئے ہوں گے۔‘

جاپان کے سرکاری میڈیا کے مطابق دارالحکومت ٹوکیو کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے والی شاہراہ پر بنی اس سرنگ کے گر جانے سے کئی گاڑیاں اس میں پھنس گئیں تھی۔

جاپان میں ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ سرنگ میں آگ لگنے کی وجہ سے کچھ لاشیں جل گئي تھیں۔

اس حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے جن کا ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

سرنگ کے اندر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے ملنے والی تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ سرنگ کا ایک حصہ جو کہ تیس میٹر بلند تھا، ایکسپریس وے پر گر گیا۔

یہ سرنگ چار اعشاریہ تین کلو میٹر لمبی ہے اور ٹوكيو کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔