امریکہ: پاکستانی جوہری پلانٹ کو پینٹ برآمد کرنے پر جرمانہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 04:12 GMT 09:12 PST

انیس سو اٹھانوے میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد سے امریکہ نے پاکستان کے لیے جوہری برآمدات پر پابندی عائد کر رکھی ہے

امریکہ میں چینی حکومت سے منسلک ایک کمپنی نے اس جرم کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر امریکہ سے پاکستان کے جوہری پلانٹ کو اعلیٰ معیار کا مخصوص پینٹ فراہم کیا تھا۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی اقدام کے جرم میں چینی کمپنی ’چائنا نیو کلیئر انڈسٹری ہاکسنگ کنسٹرکشن‘ پر تیس لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد سے امریکہ نے پاکستان کے لیے جوہری برآمدات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی چینی کمپنی نے امریکہ میں غیر قانونی برآمدات کے کسی کیس میں جرم کا اعتراف کیا ہے۔

چینی کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے سنہ دو ہزار چھ اور دو ہزار سات میں چشمہ جوہری پلانٹ کے لیے پینٹ بھیجوایا تھا۔

پاکستان اور چین کے مابین جوہری تعاون کے معاہدے کے تحت چینی کمپنی نے پاکستان میں جوہری پلانٹ کے مقام پر تعمیرات میں حصہ لیا تھا۔

اس سے پہلے بھی ایک اور پینٹ بنانے والی چینی کمپنی کو دو ہزار دس میں ایسی ہی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔