نیٹو: ترکی کے لیے پیٹریئٹ میزائلوں کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 18:46 GMT 23:46 PST
پیٹریئٹ میزائل

ترکی اور شام کی سرحد نو سو کلومیٹر طویل ہے اور یہ میزائل سرحد کے ساتھ ساتھ لگائے جائیں گے

شمالی اوقیانوس کے ممالک کے اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ کے برسلز میں اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ ترکی کی شام کے ساتھ ملحق سرحد پر پیٹریئٹ میزائل شکن نظام نصب کیا جائے گا۔

شمالی اوقیانوس کے ممالک کے اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا کہ وزرا نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر ’یکطرفہ طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔‘

شام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ ایسے ہتھیار کبھی بھی اپنے عوام کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اس سے پہلے شامی حکومت کو تنبیہ کی تھی کہ شامی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی برادری کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔

نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کیمیائی ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال عالمی برادری کے لیے ناقابلِ قبول ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی ان خوفناک ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کی توقع کرنی چاہیے۔‘

منگل کو نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ترکی کی درخواست پر برسلز میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے اکٹھے ہوئے جس میں ترکی کی سرحد پر پیٹریئٹ میزائل نصب کرنے کی اجازت کا معاملہ زیر غور رہا۔

نیٹو حکام نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ یہ ایک خالصتاً دفاعی اقدام ہو گا۔

نیٹو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس بات پر ’رضامند ہے کہ ترکی کی فضائی دفاع کی صلاحیت کو بڑھائے تاکہ وہ اپنے عوام اور علاقوں کا دفاع کر سکے اور اتحاد کی سرحدوں کے ساتھ بحران کو کم کرنے میں مدد کرے۔‘

شام کا بحران

شام کی طرف سے باغیوں کے خلاف استعمال کیے گئے کئی مارٹر بم ترکی کی سرحد کے اندر گرے ہیں

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیئل کے مطابق نیٹو کی ایک ٹیم نے پیٹریئٹ میزائل شکن نظام نصب کرنے کے سلسلے میں ترکی کے مختلف مقامات کا دورہ بھی کیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس نظام کو نصب کرنے کی منظوری روس کی مخالفت کے باوجود متوقع ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ بھی برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ، جرمنی یا ہالینڈ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اس نظام کی تنصیب میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی اور شام کی مشترکہ سرحد نو سو کلومیٹر طویل ہے اور شام کی سرکاری افواج کی جانب سے سرحد کے قریب باغیوں کے اڈّوں پر فائر کیے جانے والے کئی مارٹر گولے ترک حدود کے اندر گر چکے ہیں۔

شام میں حال ہی میں باغیوں کو کافی کامیابیاں مل رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انٹیلیجنس جائزوں میں کہا جا رہا تھا کہ شامی حکومت ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے لیس بیلسٹک میزائلوں کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے پاس مختلف مقامات پر کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار جنگی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور توپ خانے کے راکٹوں کی مدد سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان ہتھیاروں کے بارے میں تشویش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امریکہ ان کے استعمال کی صورت میں ممکنہ جوابی لائحۂ عمل کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔