یونان یورپی یونین کا سب سے ’بدعنوان‘ ملک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 16:46 GMT 21:46 PST
یونان کی ایک فائل فوٹو

یونان میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران نے ملک میں بدعنوانی کو مزید فروغ دیا ہے

ایک نئے عالمی جائزے میں پایا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ستائیس ممالک میں سے یونان کے سرکاری حلقوں میں بدعنوانی سب سے زیادہ ہے۔

جائزے میں پایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ڈنمارک، فن لینڈ، اور نیوزی لینڈ سب سے کم بدعنوان ممالک ہیں جبکہ افغانستان، شمالی کوریا اور صومالیہ دنیا کے سب سے بدعنوان ممالک ہیں۔

یہ جائزہ بدعنوانی سے متعلق کام کرنے والے ادارے ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ بدعنوانی سے متعلق اس سروے میں پوری دنیا کے ایک سو چھیتر ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے سال دوہزار بارہ کا بدعنوانی کا ایک انڈیکس جاری کیا ہے جس میں یہ پایا گیا ہےکہ یورپی یونین کے ممالک میں سے یونان سب سے بدعنوان ملک ہے۔

اس فہرست میں بدعنوانی کے اعتبار سے برطانیہ سترہویں نمبر پر رہا ہے۔

سنہ دوہزارگیارہ میں اسی طرح کے ایک سروے میں یونان اسی ویں مقام پر تھا لیکن اس برس وہ چورانویں مقام پر چلا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یونان میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران نے حالات کس طرح متاثر کیے ہیں۔

ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کے سربراہ ہوگیوت لیبیل کا کہنا ہے ’حکومت کو چاہیے کہ بدعنوانی کے خلاف کاروائی کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے‘۔

ادارے کا ماننا ہے کہ غربت اور سیاسی عدم استحکام کا بدعنوانی سے گہرا رشتہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔