بچے کوقرآن یاد نہ کرنے پرجان سے مارنے والی ماں پر جرم ثابت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 01:49 GMT 06:49 PST
سارا ایج

سارا اپنے بچے کو اکثر بغیر کسی وجہ کے بھی پیٹا کرتی تھی

اپنے ہی بچے کو قرآن کا سبق یاد نہ کرنے پر ’کتے کی طرح‘ پیٹنے والی ماں پر اسے قتل کرنے کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔

جولائی دو ہزار دس میں برطانیہ کے شہر کارڈف کے علاقے پونٹکانا میں تینتیس سالہ سارا ایج نے اپنے سات سالہ بچے یاسین ایج کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا تھا۔

کارڈف کراؤن کورٹ میں انہیں انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کا مجرم بھی ٹھہرایا گیا۔ ان کو سزا بعد میں دی جائے گی۔

بچے کے والد یوسف ایج اس الزام سے بری ہو گئے کہ وہ بچے کو نہ بچا سکے جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

پہلے یہ خیال کیا گیا تھا کہ بچے کی موت گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی لیکن بعد میں ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ وہ آگ لگنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔

ماں نے قتل کے الزام سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ یاسین کی موت کا ذمہ دار اس کا باپ ہے۔

سارا ایج نے کہا کہ انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر وہ جرم قبول نہیں کرتیں تو ان کے شوہر انہیں جان سے مار دیں گے اور ان کے خاندان کو نشانہ بنائیں گے۔

ان کے بچے کی موت کے بعد ان کا اقبالِ جرم فلمبند کیا گیا تھا اور اس کی ویڈیو بنائی گئی تھی جو بعد میں جیوری کے سامنے چلائی گئی۔

اس ایک گھنٹے کی دل دہلا دینے والی ویڈیو میں سارا ایج نے بتایا کہ کس طرح ان کے پیٹنے کے بعد ان کا بچہ فرش پر گر پڑا اور گرنے کے بعد بھی قرآن کے لفظ دہراتا رہا۔

انہوں نے کہا: ’جب میں نے اسے چھوڑا تو ایسا لگا کہ وہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔‘

یاسین ایج

یاسین کی موت پیٹ پر لگائے گئے بہت سے زخموں سے ہوئی

’وہ بار بار وہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ تھک گیا ہے۔‘

جب وہ دس منٹ کے بعد واپس آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا بچہ فرش پر پڑا کانپ رہا ہے۔ بعد میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوراً بچے کے جسم کو جلانے کا فیصلہ کیا اور نیچے جا کر لائٹر اور باربی کیو جیل (تیل) لے آئیں۔

انہوں نے پولیس کی طرف سے بنائی گئی ویڈیو میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے بھی اپنے بچے کو پیٹا کرتی تھیں اور ان کا غصہ اکثر آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔

سارا اور ان کے ٹیکسی ڈرائیور شوہر یوسف اپنے بچے یاسین کو مقامی مسجد میں قرآن حفظ کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سارا اپنے بچے کی قرآن یاد نہ کرنے کی صلاحیت سے انھیں بہت غصہ آ جاتا تھا۔

’میں بہت پاگل ہو جاتی اور میں یاسین کی کمر پر کتے کی طرح چھڑیاں مارتی۔‘

سارا نے بعد میں اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔

استغاثہ نے کہا کہ یاسین کی موت پیٹ پر کئی ضربیں لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

جب جیوری نے اپنا فیصلہ سنایا تو سارا ایج کٹہرے میں اپنا سر پکڑ کر رونے لگیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔