’حملہ آور طالبان کے نمائندے کے روپ میں آیا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 06:28 GMT 11:28 PST

اسد اللہ خالد افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں

افغانستان میں حکام کے مطابق افغان انٹیلیجنس سروس کے سربراہ پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار مذاکرات کا بہانہ بنا کر طالبان کے نمائندے کے روپ میں آیا تھا۔

انٹیلیجنس سروس کے نائب ترجمان شفیق اللہ طاہری نے بی بی سی کو بتایا کہ خود کش حملہ آور طالبان کے نمائندے کے روپ میں امن مذاکرات کا بہانہ بنا کر آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق تین بجے کیا گیا۔

افغانستان میں حکام کے مطابق افغان انٹیلیجنس سروس کے سربراہ جمعرات کو خودکش حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔

وزارتِ داخلہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں خفیہ سروس کے سربراہ اسد اللہ خالد کے جسم کا نچلا حصہ متاثر ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بم حملہ دارالحکومت کابل کے علاقے تمنائی میں ہوا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسد اللہ خالد حملے کا حدف تھے جس میں کئی جاسوس مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسد اللہ خان کے کئی مہمان خانوں میں سے ایک میں انہیں بم کا نشانہ بنایا گیا۔

اسد اللہ خالد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قاتلانہ حملے سے بچنے کے لیے کابل میں باقاعدگی سے اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے رہتے تھے۔

اسداللہ خالد کی حالت کے بارے میں متازع اطلاعات ہیں۔

افغان انٹیلیجنس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسد اللہ خالد ’محفوظ‘ ہیں تاہم ان کی حالت کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی۔

ایک سفارت کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسداللہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کو بعد میں بتایا گیا کہ سرجری کے بعد اسداللہ خالد کی حالت سنبھل گئی ہے۔

اسد اللہ خالد نے چند ماہ پہلے ہی انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔

وہ اس سے پہلے بھی ایک قاتلانہ حملے میں بچ چکے ہیں۔ ان پر یہ حملہ سال دو ہزار سات میں اس وقت ہوا تھا جب وہ صوبہ قندھار کے گورنر تھے۔

حکام کے مطابق یہ ستمبر 2011 میں افغان امن مشن کے سربراہ برہان الدین ربانی پر کئے گئے حملے کی طرز پر تھا۔

برہان الدین ربانی کو ان کے گھر میں خودکش حملہ اور نے ہلاک کیا اور حملہ اور کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ انھوں نے بم اپنی پگڑی میں چھپایا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسداللہ خالد کا الزامات عائد کئے تھے کہ غزنی اور قندہار میں گورنر کی حیثیت سے کام کرنے کے دوران انھوں نے لوگوں کو ٹارچر کیا اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں کی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ستمبر میں اسد اللہ خالد پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ انھوں نے اپریل 2007 میں قندہار میں اقوام متحدہ کے پانچ اہل کاروں کو بم دھماکے میں ہلاک کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔