روس:صحافی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 دسمبر 2012 ,‭ 13:24 GMT 18:24 PST

روس میں صحافیوں پر اکثر حملے اور انہیں دھمکیاں ملتی رہتی ہیں

روس کے علاقے جنوبی کوہ قاف میں سرکاری ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والے ایک صحافی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

چھبیس سالہ روسی صحافی کذبک جیکی یاو جمہوریہ کاباردینو بالکاریا میں ایک مقامی سرکاری ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھتے تھے۔

روس میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات جنوبی کوہ قاف میں پیش آتے ہیں جہاں سرکاری سکیورٹی فورسز اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

جمعرات کی صبح جمہوریہ کے دارالحکومت نالچیک میں ٹرانپسورٹ کے نائب وزیر ایک بم حملے میں زخمی ہو گئے۔

دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے بدھ کو صحافی کو اسی شہر میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ ٹیلی ویژن پر شام کا پروگرام کرنے کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صحافی کے پاس دو آدمی آئے اور ان سے پیشہ اور نام پوچھنے کے بعد سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

روس کی تحقیقاتی ایجنسی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیز جرم کا مقصد لٹیروں کے خلاف لڑائی کی رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو خبردار کرنا تھا۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں روس میں حکام کے مظالم پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے صحافیوں کے قتل اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایات کرتی رہتی ہیں۔

تاہم کوہ قاف میں صحافی کی ہلاکت اس زمرے میں نہیں آتی ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن میں ہلاک ہونے والے صحافی کے ساتھیوں کے مطابق وہ صرف حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آنے والی والی خبروں کو نشر کرتے تھے۔

کذبک جیکی یاو کے بھائی علیبیک نے ایک مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی ایک پروفیشنل تھے اور انہوں نے کبھی کسی فریق کے لیے برا نہیں کیا اور ہر لحاظ سے غیر جانبدار شخص تھے۔

ٹیلی ویژن چینل کا کہنا ہے کہ کئی نامہ نگاروں کو اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں تاہم ہلاک ہونے والے صحافی کذبک جیکی یاو کی ذمہ داریوں میں اسلامی عسکریت پسندی کے بارے میں معلومات کرنا شامل نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔