افغان ثقافت اور مغربی اقدار

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 23:57 GMT 04:57 PST
لندن کے افغان

اعتدال پسندی ہی افغان اور مغربی روایات کے درمیان مطابقت پیدا کر سکتی ہے

مغرب میں رہنے والے بہت سے افغان اپنے آپ کو سیاسی پناہ گزین کہتے ہیں کیونکہ ان کو مسلسل جنگ کی وجہ سے اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا ہے۔

ہم امن، تعلیم، اور اپنے مذہب پر بغیر کسی جبر کے عمل کرنے کی امید میں یہاں آئے تھے۔ ہمیں یہاں وہی سب کچھ ملا جو ہم نے سوچا تھا، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ جنہیں قائم رکھنے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنا پڑی، جیسا کہ ہماری ثقافت۔ ثقافت صرف افغان زبان بولنا نہیں ہے اور نہ ہی اس کی طے شدہ روایات پر عمل درآمد کرنا ہے۔ افغان روایت میں کسی افغان سے شادی کرنا بھی ثقافت ہے۔ مغرب میں افغان کمیونٹی میں شادی کے آہستہ آہستہ مختلف مسائل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ لوگ اس موضوع کو متنازع سمجھیں گے، لیکن ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہونا چاہیئے کہ اس کے پسے پردہ کچھ بنیادی مسائل ہیں جن کو سامنے لانا بطور افغان ہماری ذمہ داری ہے۔

افغان لڑکیوں اور لڑکوں کی ایک کثیر تعداد افغانستان جا کر اپنی زندگی کے ساتھی کا انتخاب کرتی ہے، جس کی وجہ آنے والے کے لیے برطانوی افغان یا امریکی افغان ثقافت میں ضم ہونے میں مشکل ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ ہیں جو غیر افغان سے شادی کر کے مجموعی طور پر افغان ثقافت کی اہمیت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔ چاہے آپ کو ان دونوں واقعات میں مسائل نظر آتے ہیں یا نہیں، میں صرف آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

"افغان لڑکیوں اور لڑکوں کی ایک کثیر تعداد افغانستان جا کر اپنی زندگی کے ساتھی کا انتخاب کرتی ہے، جس کی وجہ آنے والے کے لیے برطانوی افغان یا امریکی افغان ثقافت میں ضم ہونے میں مشکل ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ ہیں جو غیر افغان سے شادی کر کے مجموعی طور پر افغان ثقافت کی اہمیت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔ چاہے آپ کو ان دونوں واقعات میں مسائل نظر آتے ہیں یا نہیں، میں صرف آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟"

ان بچوں کے والدین اور ان بچوں سے بھی بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مغرب میں اچھے تعلیم یافتہ اور مہذب افغان نہیں رہ گئے۔ لڑکوں کا دعویٰ ہے کہ مغرب میں رہنے والی لڑکیوں نے اپنی ثقافت بھلا دی ہے اور ان میں بہت زیاد مغربیت آ گئی ہے، جبکہ لڑکیاں بھی مردوں کے متعلق ایسی ہی شکایت کرتی ہیں۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ افغان یہاں رہنے والے دیگر نسلی گروہوں سے پیچھے نہیں ہیں، اگر زیادہ نہیں تو ہم بھی اتنے ہی تعلیم یافتہ ہیں اور مہذب ہیں جتنا کہ وہ۔ تو پھر کس کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

اس کی ذمہ دار مجموعی طور پر افغان کمیونٹی پر عائد ہوتی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم مغربی ممالک رہ کر اپنی ثقافت سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم اپنی ثقافت اور مغربی ثقافت کے درمیان اعتدال پیدا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ والدین کو پتہ نہیں کس طرح توازن کو تلاش کیا جائے۔ یا تو وہ اپنے بچوں سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں یا بالکل نہیں۔ جو والدین بچوں کے ساتھ بہت سختی کرتے ہیں اور اپنے بچوں سے تعلیم اور سماجی طرز عمل میں زیادہ توقعات رکھتے ہیں، وہ وہاں یہ خطرہ بھی پیدا کر دیتے ہیں کہ کہیں ان کا بچہ افغان ثقافت سے ہی باغی نہ ہو جائے اور اپنی مرضی کرے۔ اس برعکس ایسے بھی والدین ہیں جو اصولوں پر بہت زیادہ نرمی برتتے ہیں، جو اپنے بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ ثقافت کی قدر کرنا کتنا اہم ہے اور برادری کے مستقبل میں اس کی کی کتنی اہمیت ہے۔

یہ افغان برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مغربی اقدار کے ساتھ اپنی ثقافت کے بارے میں بھی بتائے

برطانیہ یا امریکہ میں رہنے والے افغان بچوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر، انجنیئر، یا استاد سے الگ بھی کچھ بن سکیں۔ اور ایک آرام دہ اور پرسکون زندگی کا دارومدار اب ایک مخصوص پیشے تک محدود نہیں ہے۔ وہ سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹس کو بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں، دوستوں کے ساتھ سنیما جانا چاہتے ہیں اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ، جن میں مخالف جنس بھی شامل ہے، بغیر کسی سزا کے خوف کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ اپنے پچے کو مجبور کریں کہ وہ اسی کیریئر کا انتخاب کرے جو آپ چاہتے ہیں اور نہ ہی ان سے اس طرح کی توقع رکھیں کہ وہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں کو ملنے والی آزادی کی خواہش نہ کریں۔

یہ وہ سماجی دباؤ ہے جس کی وجہ سے افغان نوجوان کا افغان ثقافت کو دیکھ کر دم گھٹتا ہے اور اسے مغربی ثقافت آزادی کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ اس وجہ سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ثقافت کو پسند نہیں کرتی، صرف واجبی تعلیم حاصل کرتی ہے نہ کہ اتنی جتنی ان میں صلاحیت ہے اور سماجی آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنے والدین کے ساتھ مسلسل اختلاف رکھتی ہے۔ اور یہ بڑھتا رہتا ہے۔ یہی وہ بچے ہیں جنہیں مستقبل میں شادی کے لیے افغانستان بھیجا جاتا ہے یا وہ خود ہی کسی غیر افغان سے شادی کر لیتے جس کی وجہ سے دوسرے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اگلی نسل افغان ثقافت کو پسند کرے تو پھر ہمیں مغربی معاشرے اور اپنی ثقافت کے درمیان اعتدال پسندی لانا ہوگی۔ میانہ روی ضروری ہے، نہ صرف ایک کمیونٹی کی صحت کے لیے بلکہ کمیونٹی کے دماغ کے لیے بھی۔

ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ مچھلی کو بہت کس کر پکڑیں گے تو وہ آپ کی گرفت سے باہر گر جائے گی اور اگر آپ اس کو بہت آرام سے بھی پکڑیں گے تو تب بھی وہ آپ کی گرفت سے نکل جائے گی۔ افغان بچہ وہ مچھلی ہے جسے ہم نے پکڑا ہوا ہے۔ ہم نے اسے اس طرح پکڑنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ رہے، لیکن ساتھ ساتھ وہ وہاں رہنے پر مطمئن بھی ہو۔ کیونکہ اگر ہم اس امتحان میں ناکام رہتے ہیں تو مستقبل کی نسلوں کی کبھی بھی اپنے آبائی وطن واپس لوٹنے کی امید بالکل ختم ہو جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔