بلفاسٹ:’تشدد قابلِ قبول ردعمل نہیں ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 12:59 GMT 17:59 PST
ہلیری کلنٹن

آئرش حکام نے قیامِ امن کے لیے ہلیری کلنٹن کی کوششوں کو سراہا

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بلفاسٹ میں رواں ہفتے ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔

چار روزہ دورۂ یورپ کے دوران جمعہ کو بلفاسٹ پہنچنے کے بعد ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ہمیشہ ہوتا ہے لیکن تشدد کبھی بھی اس کا قابلِ قبول ردعمل نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین کو فرقہ وارانہ تقسیم کی مشکلات کو پرامن طریقے سے مل جل کر حل کرنا چاہیے۔

لیری کلنٹن ایک ایسے وقت میں بلفاسٹ کا دورہ کررہی ہیں جب شہر میں مرکزی ہال پر برطانیہ کا پرچم لہرانے پر پابندی لگانے کے معاملے پر تنازع جاری ہے۔

قوم پرست جماعتیں چاہتی ہیں کہ بلفاسٹ میں کونسل ہال سے برطانوی پرچم لہرانے کا سلسلہ ختم کر دیا جائے لیکن مشرقی بلفاسٹ اتحاد کی جانب سے مخالفت کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہفتے میں بعض مخصوص دنوں میں یہ پرچم لہرایا جائے گا۔

جمعہ کو یہ بات سامنے آئی ہے کہ اتحاد کے ممبر پارلیمان نیومی لونگ اورجم میک ویگھ کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ اس سلسلے میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’میں انہیں (نیومی کو) جانتی ہوں اور ان پر اور اتحاد پر حملوں کی خبریں پریشان کن ہیں۔ یہ چیز قابلِ قبول نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت کو مذاکرات، سمجھوتے اور مسلسل وابستگی درکار ہوتی ہے تاکہ سب کے حقوق کا تحفظ ہو سکے‘۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’یہاں امن قابلِ قدر حد تک برقرار رہا ہے۔ تاہم اس کا امتحان ہوتا رہا ہے۔ یہ حالیہ حملے اس بات کی یاددہانی ہیں کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں‘۔

اس موقع پر آئرش فرسٹ منسٹر پیٹر رابنسن اور نائب فرسٹ منسٹر مارٹن مکگینیز نے شمالی آئرلینڈ میں قیامِ امن کی کوششوں میں ہلیری کلنٹن نے کردار کو سراہا۔

پیٹر رابنسن نے یہ بھی کہا کہ ’امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باوجود یہ سفر جاری رہے گا‘۔

خیال رہے کہ امریکی وزیرِخارجہ کے طور پر یہ ہلیری کلنٹن کے آخری بیرونی ممالک کے دوروں میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ ہلیری کلنٹن کے عہدے کی مدت آئندہ ماہ ختم ہو رہی ہے اور وہ کہہ چکی ہیں کہ دوبارہ وزير خارجہ نہیں بننا چاہتیں۔

شمالی آئرلینڈ میں بی بی سی کے سینیئر نامہ نگار مارک ڈینوپارٹ کا کہنا ہے ’ہلیری کلنٹن نے کسی بھی امریکی سفارتکار کی طرح سے پوری دنیا کا دورہ کیا ہے اور شمالی آئرلینڈ کی مثال ایک ایسے ملک کے طور پر دی ہے جو اختلافات اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرتا ہے‘۔

ہلیری کلنٹن کا شمالی آئرلینڈ کا یہ آٹھواں جبکہ وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے یہ ان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سن دو ہزار نو میں شمالی آئرلینڈ کا دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔