خالد مشعل پینتالیس سال بعد غزہ پہنچ گئے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 07:31 GMT 12:31 PST

سنہ دو ہزار چار میں حماس کے سربراہ شیخ احمد یاسین کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد خالد مشال نے تنظیم کی قیادت سنبھال لی

حماس کے جلا وطن رہنما خالد مشعل نے غزہ میں اپنی واپسی کو اپنا ’تیسرا جنم‘ قرار دیا ہے۔ خالد مشعل پینتالیس سال بعد پہلی بار غزہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

خالد مشعل کا کہنا ہے کہ یوں تو وہ 1956 میں پیدا ہوئے تھے تاہم 1997 میں اردن میں اسرائیلی ایجنٹوں کے حملے میں بچنا ان کا دوسرا جنم تھا۔’ آج غزہ میں آنا میرا تیسرا جنم ہے۔‘

ذرائع ابلاغ کو جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا چوتھا جنم اس وقت ہوگا جب فلسطین آزاد ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’غزہ ہمیشہ میرے دل میں رہا‘

خالد 1967 غربِ اردن چھوڑ کر چلے گئے تھے اس کے بعد سے انہوں نے فلسطینی علاقوں میں قدم نہیں رکھا تھا۔

خالد غزہ میں مختلف فلسطینی تحریکوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ غزہ کی عوام سے بھی ملیں گے اور ان خاندانوں سے بھی ملاقات کریں گے جن کے افراد اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پچھلے ماہ ہوئی ہے۔

غزہ میں سنہ 2007 سے حماس کی حکومت قائم ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپی یونین حماس نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

خالد مشعل مصر کی جانب سے غزہ میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے غزہ کی زمین کو بوسہ دیا۔ رفع سرحدی چیک پوسٹ کے حکام نے بتایا کہ خالد مشعل کی اہلیہ جمعرات کی شب پہنچی تھیں۔

حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دورہ قابض قوت کے خلاف تحریک کی کامیابی کا ثمر ہے۔

ان کے تین روزہ دورے کی تقریبات کے سلسلے میں سنیچر کو ایک بڑا جلسہ بھی متوقع ہے۔

خالد مشعل سنہ انیس سو چھپن میں غربِ اردب کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ سنہ انیس سو ستاسٹھ کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد وہ پہلے کویت اور بعد میں اردن منتقل ہوگئے تھے جہاں انھوں نے حماس میں شمالیت اختیار کر لی۔ اردن میں انھیں کچھ دیر جیل کاٹنا پڑی جس کے بعد انھیں قطر بھیج دیا گیا۔

سنہ دو ہزار چار میں حماس کے سربراہ شیخ احمد یاسین کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد انھوں نے تنظیم کی قیادت سنبھال لی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر اسرائیل اس دورے کا نوٹس نہیں لے رہا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان یگال پالمور کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں کہ مصر کی جانب سے غزہ میں کون داخل ہوتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حماس کے اندر مختلف اشخاص کے بارے میں انفرادی بنیادوں پر ہماری کوئی رائے نہیں۔ ان کا کہنا تھا ’حماس تو حماس ہے۔‘

گذشتہ ماہ آٹھ روز تک جاری رہنے والی کشیدگی میں ایک سو ستر فلسطینی اور چھ اسرائیلی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

حماس نے اس جھڑپ میں خود کو فاتح قرار اس لیے دیا کہ اسرائیل نے زمینی حملہ کرنے کی بجائے مصر کی مدد سے طے پانے والے امن معاہدے کو منظور کر لیا۔

حماس سنہ انیس سو ستاسی میں انتفادہِ اول یعنی پہلی فلسطینی تحریک کے بعد بنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے متعلقہ حکام کو مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر مزید تین ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے جمعہ کو فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔