کیمرہ رکھ کر مدد کرنے کا وقت کب آتا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 15:46 GMT 20:46 PST

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے صفحۂ اول پر ایک ایسے شخص کی تصویر چھپی ہے جسے ریل کی پٹڑی پر دھکا دیا گیا اور ریل نے اسے کچل دیا۔

سرورق پر اس شخص کی موت سے چند لمحے قبل کی تصویر شائع کرنے پر اخبار اور فوٹوگرافر دونوں کو تنقید کا سامنا ہے اور اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ایسے حالات میں فوٹوگرافرز کو اپنا کام چھوڑ کر متاثرین کی مدد کرنی چاہیے؟

ایک وقت تھا کہ صحافتی ضابطۂ اخلاق کا تعلق صرف صحافیوں اور صحافت کی تعلیم حاصل کرنے تک محدود تھا لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں جب تقریباً ہر صارف کی جیب میں کیمرے والا موبائل فون ہے اس قسم کے سوال کا تعلق عام آدمی سے بھی جُڑ گیا ہے۔

مذکورہ تصویر کھینچنے والے فری لانسر فوٹو جرنلسٹ عمر عباسی کا کہنا ہے کہ وہ اس شخص تک نہیں پہنچ سکتے تھے اور انہوں نے اپنے کیمرے کی فلیش کی مدد سے ٹرین کے ڈرائیور کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایک مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’میں نے کیمرہ اٹھا کر دوڑنا شروع کیا اور صرف بٹن دباتا رہا تاکہ فلیش کی چمک دیکھ کر ٹرین کا ڈرائیور اسے دیکھ لے اور ٹرین روک سکے‘۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی المیہ واقعے کی تصویر پر کوئی تنارع کھڑا ہوا ہو۔

کیون کارٹر نامی فوٹوگرافر کو انیس سو ترانوے میں ایک نحیف اور جاں بہ لب سوڈانی بچے کی موت کے منتظر گدھ کی تصویر پر پلٹزر انعام دیا گیا تھا۔ اس تصویر پر کارٹر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس واقعے کے ایک برس بعد ہی خودکشی کر لی۔

" اصل ذمہ داری مدیران کی ہے کہ وہ صرف ایسی چیز شائع یا نشر کریں جس کا اخلاقی جواز موجود ہو۔"

پروفیسر جے روسن

صحافتی فوٹوگرافی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بسا اوقات المناک تصاویر دنیا تک ان واقعات کو پہنچانے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگرافر نک اُٹ کی ویت نام جنگ میں ناپام بم کے حملے کے بعد بھاگتے ہوئے نو سالہ برہنہ بچی کی تصویر کو اس جنگ کے اثرات بیان کرنے والی بہترین تصاویر میں شمار کیا جاتا ہے۔ نک نے اس بچی اور دیگر زخمی بچوں کو ہسپتال بھی پہنچایا تھا

کچھ لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ وہ فوٹوگرافرز ہوں یا راہگیر، ان سب پر مصیبت کا شکار افراد کی مدد کرنے کی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

نیشنل جیوگرافک کے لیے 1985 میں ’افغان لڑکی‘ کی مشہور تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافر سٹیو میککری کا کہنا ہے کہ ’آپ کو ہمیشہ کسی انسان کی مدد ہی کرنی چاہیے۔ اگر کسی کی مدد کا کوئی امکان ہو تو آپ کیمرہ یا قلم رکھ کر اس کی مدد کریں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے واقعات فوراً رونما ہوتے ہیں۔ اس وقت صرف جذبات، ہجوم اور شور ہوتا ہے۔ یہاں آپ اپنے ردعمل کی بات کر رہے ہیں جو کہ خودبخود ہوتا ہے‘۔

چین کے تیانمن سکوائر میں ٹینک پر کھڑے احتجاجی شخص کی تصویر کھینچ کر شہرت حاصل کرنے والے سٹورٹ فرینکلن کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تصاویر نشر یا شائع کرنے کی اخلاقی ذمہ داری فوٹوگرافر کی نہیں بلکہ اخبار یا چینل کے مدیران کی ہے۔

"آپ کو ہمیشہ کسی انسان کی مدد ہی کرنی چاہیے۔ اگر کسی کی مدد کا کوئی امکان ہو تو آپ کیمرہ یا قلم رکھ کر اس کی مدد کریں۔ایسے واقعات فوراً رونما ہوتے ہیں۔ اس وقت صرف جذبات، ہجوم اور شور ہوتا ہے۔ یہاں آپ اپنے ردعمل کی بات کر رہے ہیں جو کہ خودبخود ہوتا ہے۔"

سٹیو میککری

نیویارک پوسٹ میں شائع ہونے والی تصویر پر ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں یہ غیرضروری تھا۔ یہ صرف اخبار بیچنے کی ایک سنسنی خیز کوشش تھی۔ یہ صحافت کی بدصورت شکل ہے‘۔

عام صحافیوں سے کہیں زیادہ مشکل کام ان ’شہری صحافیوں‘ کو کسی ضابطۂ اخلاق کا پابند بنانا ہے جنہوں نے اپنے سمارٹ فونز سے نیویارک کے اس زیرِ زمین سٹیشن پر پیش آنے والے اس واقعے کی تصاویر لیں۔

لندن میں جولائی دو ہزار پانچ کے دھماکوں کی ایسی تصاویر جو کہ عام افراد نے کھینچی تھیں بہت بڑی تعداد میں شیئر کی گئیں اور انہوں لاکھوں افراد نے دیکھا۔ ’وی دا میڈیا‘ نامی کتاب کے مصنف ڈین گلمور کا کہنا ہے کہ ’ہم ایسے واقعات اب اکثر دیکھیں گے اور یہ صرف تصاویر ہی نہیں بلکہ ویڈیوز بھی ہوں گی۔

اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی تصاویر کھینچنے والے ایک عام آدمی پر بھی صحافتی اقدار کی پاسداری کی ویسی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جیسی کہ کسی جنگ کی کوریج کرنے والے کسی صحافی پر ہوتی ہے۔

’شہری صحافت‘ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عام افراد ایسی جگہوں پر باآسانی جا سکتے ہیں جہاں پیشہ ور رپورٹرز کو جانے نہیں دیا جاتا اور ایک تجربہ کار صحافی اور ایک عام شہری کو ایک ترازو میں تولنا صحیح نہیں ہوگا۔

نیویارک یونیورسٹی میں صحافت کے استاد پروفیسر جے روسن کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داری مدیران کی ہے کہ وہ صرف ایسی چیز شائع یا نشر کریں جس کا اخلاقی جواز موجود ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نیویارک پوسٹ کی اس تصویر پر بحث جاری رہے گی اور اگر یہ بےنتیجہ بھی رہے تب بھی اس سے ایک تصویر کی لافانی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔