متحدہ عرب امارات: اٹھارہ سالہ بلاگر زیر حراست

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 17:35 GMT 22:35 PST

انسانوں حقوق کے کارکن متحدہ عرب امارات کے حکومت پر اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگاتے ہیں

متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکام نے ایک اٹھارہ سالہ بلاگر کو حراست میں لیا ہے۔

محمد سلیم کو شارجہ ریاست میں سکیورٹی حکام بدھ کو حراست میں لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔

اطلاعات کے مطابق محمد سلیم نے انٹرنیٹ پر زیر حراست سماجی کارکنوں کے حق میں تبصرہ کیا تھا۔

گزشتہ مہینے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے انٹرنیٹ کے استعال کے متعلق قانون کو سخت کرتے ہوئے ریاستی اداروں پر تنقید کرنے یا نقصان پہنچانے کو جرم قرارا دیا اور احتجاج منظم کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

انسانی حقوق کےگروپوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے اظہار رائے، آزاد تنظیم اورجمع ہونے پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں ہیں۔

برطانیہ میں انسانی حقوق کے ادارے اماریٹس سنٹر فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ محمد سلیم شارجہ میں اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ انہیں سکیورٹی اہل کاروں نے روک لیا۔

اماریٹس سنٹر کے مطابق محمد سلیم کو اپنےگھر لے جایا گیا اورسادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی افسران نے ایک گھنٹے تک ان کے گھر کی تلاشی لیتے ہوئے ان کا لیپ ٹاپ اور دوسرے آلات قبضے میں لے لیے۔

محمد سلیم کے خاندان نے اماریٹس سنٹر کو بتایا کہ انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

سرکاری حکام نے محمد سلیم کو حراست میں لینے کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ ایک افسر نے ان کے خاندان کو بتایا کہ انہیں سنیچر کو رہا کر دیا جائے گا۔

محمد سلیم الازمر ایک شاعر کے بیٹے ہیں اور خالد الا شیبا الانومی کے بھتیجے ہیں جنہیں سال کے اوائل میں 60 دوسرے سماجی کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔ جن میں بعض لوگوں کا تعلق اصلاح نامی مقامی تنظیم سے ہے جو اسلامی شریعت کی پرچار کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حکومت کو گرانے کی بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کے ایک کارکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا محمد سلیم کو زیر حراست کارکنوں کی حمایت میں رائے کا اظہار کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں زیر حراست کارکنوں کے سے تعلقات اور ان کے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔