قاہرہ: مظاہروں کے پیشِ نظر سکیورٹی سخت

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 06:14 GMT 11:14 PST

مصری صدر محمد مرسی نے فوج کو سکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا ہے

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملک کے نئے مجوزہ آئین کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہروں کے پیشِ نظر منگل کو سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

مصر کی حزب اختلاف نے منگل کے روز ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

مصری فوج کے ٹینک قاہرہ کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں جبکہ صدارتی محل کے گرد کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور خاردار تار بچھائی گئی ہے۔ مصر کا صدارتی محل حالیہ احتجاجی مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

پیر کی شب قاہرہ کے تحریر سکوائر میں موجود حزبِ مخالف کے حامیوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

صدر مرسی کے مخالفین سنیچر کو مجوزہ آئین پر ہونے والے ریفرنڈم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ صدر کے حامیوں نے ان کے حق میں ریلیوں کی اپیل کی ہے۔

مصر کے صدر کا کہنا ہے کہ نیا آئین ملک میں آنے والے انقلاب کا محافظ ثابت ہوگا جبکہ ان کے مخالفین ان پر ملک کو دوبارہ آمریت کی جانب دھکیلنے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو صدر محمد مرسی نے ریفرنڈم تک ملک میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے فوج کو عام شہریوں کوگرفتار کرنے کے اختیارات دے دیے تھے۔

انہوں نے فوج کو ملک میں ریفرنڈم کی تیاری کے دوران امن و امان قائم کرنے اور ریاستی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ فوج سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ رابطے میں رہے۔

مصر کے سابق وزیر خارجہ اور حزب اختلاف کے ایک رکن عمرو موسیٰ نے کہ ہےا کہ حزب اختلاف صدر مرسی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ وہ ایک بہتر آئین کے لیے کوشاں ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ نئے صدارتی حکم سے مصر میں دوبارہ فوجی آمریت آنے کے خدشات بڑھیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔