لیبیا: سابق وزیرِ اعظم کے مقدمے کی سماعت

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 19:31 GMT 00:31 PST

وہ عدالت میں لیبیا کا روایتی لباس پہننے ہوئے پیش ہوئے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں سابق وزیرِ اعظم البغدادی المحمودی پر ’لیبیائی شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بننے والے اقدامات‘ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور ان کے دو ساتھیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے ملکی خزانے سے ڈھائی کڑوڑ ڈالر تیونس کے ذریعے کرنل قذافی کی حامی افواج تک پہنچائے۔

گذشتہ سال کرنل قذافی کے خلاف لیبیا میں چلنے والی تحریک کے دوران البغدادی المحمودی ہمسایہ ملک تیونس فرار ہوگئے تھے تاہم اس سال جون میں انھیں لیبیا کے حوالے کر دیا گیا۔

انھوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پیر کو وہ عدالت میں لیبیا کا روایتی لباس پہننے ہوئے پیش ہوئے جہاں وہ صرف ایک بار اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے مخاطب ہوئے۔

ان کے دو شریک ملزمان کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کی ایک کمپنی کے نگران تھے۔

المحمودی کے وکیل نے عدالت کو چھ گواہوں کے نام بھی جمع کروائے ہیں جن میں سے چند زیرِ حراست اپنے مقدموں کا اعلان کر رہے ہیں۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت جنوری کے ماہ میں متوقع ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے تیونس کی حکومت سے کہا تھا کہ المحمودی کو لیبیا کے حوالے نہ کیا جائے کیونکہ وہاں ان کے خلاف انسانی حقوق کی حلاف ورزیوں کا امکان ہے۔

لیبیا کی نئی حکومت نے تمام ملزمان کے ساتھ منصفانہ رویے کا وعدہ کیا ہے۔

البغدادی المحمودی مارچ دو ہزار چھ سے وزیرِ اعظم کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ انھوں نے لیبیا اس وقت چھوڑا جب کرنل قذافی کی حامی فوجوں نے طرابلس کا کنٹرول کھو دیا۔

وہ سابق حکومت کے چار اعلٰی اہلکاروں میں سے ایک ہیں جن پر لیبیا میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔