سیکس سکینڈل: سٹروس کان نے سمجھوتہ کیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 21:12 GMT 02:12 PST
عالمی مالیاتی فنڈ کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان

عالمی مالیاتی فنڈ کے سابق سربراہ ڈومینیک سٹراس کان نے ہوٹل کی اُس ملازمہ کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں جس نے اُن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔

نیویارک کے ایک جج نے بتایا کہ 63 سالہ کان اور نفیساتو ڈیلو کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے کی تفصیلات راز میں رکھی جائیں گی۔

2011 میں نیویارک میں اس وقت مسٹر کان کو حراست میں لے لیا گیا تھا جب 33 سالہ ڈیلو نے کہا تھا کہ مسٹر کان نے ہوٹل کے کمرے میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔

استغاثہ نے ہوٹل کی ملازمہ کے ان الزامات کو رد کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد مسٹر کان کی ساکھ کو نقصان پہنچا تھا اور خیال ہے کہ اس وجہ سے ان کے فرانس کے صدارتی امیدوار بننے کے امکانات بھی متاثر ہوئے۔

نیویارک سٹیٹ سپریم کورٹ کے جسٹس ڈگلس میک کیون نے پیر کو اعلان کیا کہ طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریق سمجھوتے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

محترمہ ڈیلو تو عدالت میں موجود تھیں تاہم مسٹر کان حاضر نہیں تھے۔

محترمہ ڈیلو کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اب وہ سب کچھ بھول کر زندگی میں آگے بڑھنے کو تیار ہیں‘۔

مئی 2011 میں محترمہ ڈیلو نے کہا تھا کہ جب وہ ہوٹل میں مسٹر کان کے کمرے کی صفائی کرنے گئی تھیں تو مسٹر کان نے انہیں جنسی عمل پر مجبور کیا تھا۔

اس کے بعد مسٹر کان کو گرفتار کر کے اُن پرجنسی زیادتی کی کوشش کا الزام لگایا گیا تھا اور عالمی مالیاتی فنڈ کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

مسٹر سٹروس کان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کے کمرے میں جو کچھ بھی ہوا وہ دونوں کی رضامندی سے ہوا تھا۔

محترمہ ڈیلو کے واقعے کے روشنی میں آنے کے بعد ایک اور عورت نے مسٹر کان پر جنسی حملے کا الزام لگایا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔