امریکہ نے شامی اتحاد کو تسلیم کر لیا، روس کی تنقید

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 09:02 GMT 14:02 PST
امریکی صدر اوباما

حقوق کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے: اوباما

روس نے امریکہ کی جانب سے شام میں اپوزیشن اتحاد کو رسمی طور پر ملک کی عوام کا ’جائز نمائندہ‘ تسلیم کرنے کے اعلان پر تنقید کی ہے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں سیاسی تبدیلی کی کوششوں کے مخالف جا رہا ہے اور اس نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کی عسکری کامیابیوں پر شاری امیدیں لگا دیں ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے منگل کو شامی حزبِ اختلاف کے اتحاد کو شامی عوام کا واحد اور جائز نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فرانس پہلے ہی اس اتحاد کو شام کا ’واحد نمائندہ‘ کہہ چکا ہے جبکہ ترکی اور چھ خلیجی ممالک پہلے ہی اسے مکمل طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

امریکہ میں اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اس اتحاد نے شامی عوام کی نمائندگی کا حق حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’بڑا قدم ‘ ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد کو تسلیم کیے جانے کے بعد اب اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ حقوق کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ بااثر طریقے سے خود کو منظم کریں، تمام جماعتوں کو نمائندگی دیں اور ایک ایسا سیاسی نظام بنائیں جس میں خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کو تسلیم کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ امریکہ باغی گروپوں کو اسلحہ مہیا کرنا شروع کر دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ حزبِ اختلاف کے اتحاد میں موجود شدت پسند عناصر کی حمایت نہیں کرے گا۔

"حزبِ اختلاف کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ بااثر طریقے سے خود کو منظم کریں، تمام جماعتوں کو نمائندگی دیں اور ایک ایسا سیاسی نظام بنائیں جس میں خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔"

براک اوباما

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ صدر الاسد کے خلاف برسرِ پیکار تمام افراد میں سے ہر کسی کے ساتھ کام کرنے میں آسانی محسوس نہیں کرتا‘۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ستّر ممالک کے وزرائے خارجہ مراکش میں شام کی صورتحال پر بات چیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

مراکیش نامی شہر میں ہونے والے اس اجلاس میں پہلی بار شامی حزبِ اختلاف کے قومی اتحاد کے نمائندے بھی حصہ لیں گے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد کو ’قومی اتحاد برائے شامی انقلابی اور اختلافی افواج‘ کہا جاتا ہے اور اسے قطر میں گیارہ نومبر کو قائم کیا گیا تھا۔ اس اتحاد میں شامی حزب اختلاف کے مختلف گروہوں کے ساٹھ نمائندے شامل ہیں۔

شام میں صدر الاسد کے خلاف تحریک مشرقِ وسطٰی اور شمالی افریقہ میں ہونے والی تحریکوں یا انقلاب میں سب سے خونریز رہی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسدکے خلاف تقریباً اٹھارہ ماہ کی اس لڑائی میں اب تک 40 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔