ٹائلٹ میں گرنے والا بچہ ہسپتال سے فارغ

Image caption اس بچے کی بائیس سالہ ماں نے بتایا کہ بچہ غلطی سے ٹائیلٹ میں گر گیا تھا

چین میں حکام کے مطابق ٹائلٹ میں گرنے والے بچے کو ہسپتال سے فارغ کر کے ان کی ماں کے رشتے داروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس بچے کو ژیجیانگ صوبے کے ینہوا شہر میں سنیچر کو ایک ٹائیلٹ کے پائپ سے کاٹ کر نکالا گیا تھا۔

اس بچے کی بائیس سالہ ماں نے بتایا کہ بچہ غلطی سے ٹائیلٹ میں گر گیا تھا جب انہوں نے انجانے میں اسے جنم دے دیا۔

پوجیانگ کے مقامی پروپگینڈہ دفتر کے حکام کے مطابق بچے کو اس کی ماں کے رشتے داروں کے پاس چھوڑا گیا ہے

بیجنگ میں بی بی سی کے مارٹن پیشنس نے بتایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے ایک اقدامِ قتل کے کیس کے طور پر لیا تھا یہ سمجھتے ہوئے کہ بچے کو جان بوجھ کر گٹر میں پھینکا گیا تھا۔

اب پولیس کا یہ کہنا ہے کہ ایسا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

پوجیانگ پروپگینڈہ دفتر نے حکام نے بتایا کہ ’یہ ایک حادثہ تھا‘۔

اس بچے کو اس کی ماں کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا اور اس کے باپ کے خاندان نے بھی ہسپتال میں بچے کو دیکھا اور بچے کو ہسپتال سے بہتر صحت میں فارغ کیا گیا۔

مقامی پولیس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ بچے کے نانا نانی اسے گاؤں لے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بچے کی والدہ نے ابتدائی طور پر اپنے مالک مکان کو اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا مگر اس بات کا اعتراف نہیں کیا تھا کہ یہ بچہ ان کا ہے۔

ایک اہلکار نے اے پی کو بتایا کہ بچے کی ماں نے ایسا اس لیے کیا چونکہ وہ خوفزدہ تھی۔

چین کے خبر رساں ادارے ژی ژونگ نیوز کے مطابق اس بچے کی بائیس سالہ ماں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اسقاطِ حمل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور انہوں نے اپنے حمل کو خفیہ رکھا تھا۔

چینی خبر رساں ادارے ژنہوا نے مقامی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’بچے کے باپ کا ارادہ ہے کہ وہ اس کی ولدیت کی تصدیق کروائیں گے کہ بچہ ان کا ہے کہ نہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چین میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات بہت عام ہیں مگر معاشرے میں اکیلی ماؤں کو ناپسند کیا جاتا ہے۔

اس نومولود بچے کو بے بی 59 کا نام دیا گیا جو کہ ہسپتال میں ان کے انکیوبیٹر کا نمبر ہے۔

چائنہ ڈیلی اخبار کے مطابق اس بچے کو دس سینٹی میٹر کے پائپ میں سے نکالا گیا جس کا قطر چار انچ تھا۔

بچے کو سر اور بازؤوں پر معمولی خراشیں آئی ہیں مگر اب اس کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں