شمالی کوریا کو نتائج بھگتنے پڑیں گے: امریکہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 01:49 GMT 06:49 PST
راکٹ سیٹلائٹ

جنوبی کوریا نے اس تجربے کی مذمت کی ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر کے دور مار راکٹوں کا تجربہ کرنے کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’اشتعال انگیز قدم ہے جس سے خطے کی سکیورٹی کو خطرہ ہے‘

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس راکٹ کی مدد سے ایک سیارچے کو خلائی مدار میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا نے اس کی آڑ میں ممنوعہ میزائل تکنالوجی کا تجربہ کیا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی شمالی کوریا کے اس تجربے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے سلامتی کونسل کی قرادادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اس تجربے پر قراراد کی شکل میں سخت ردِعمل کا اظہار کیا جائے۔

شمالی کوریا نے بین الاقوامی انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس نے دور مار راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

اس راکٹ کو شمالی کوریا کے مغربی ساحل سے مقامی وقت کے مطابق نو بج کر انچاس منٹ پر داغا گیا اور اطلاعات کے مطابق اس نے اپنے مقررہ راستے پر کامیابی سے سفر کیا ہے۔

اس سے قبل شمالی کوریا نے اسی سال اپریل میں بھی راکٹ تجربہ کیا تھا جو پرواز کرتے ہی تباہ ہو گیا تھا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس راکٹ کی مدد سے ایک سیارچے کو خلائی مدار میں پہنچا دیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ بارہ دسمبر کو سوہائی خلائی مرکز سے ہمارے کوانگ میونگ سونگ سوئم سیٹلائٹ کا دوسرا ورژن بھیجنے کا منصوبہ کامیاب رہا ہے اور مصنوعی سیارہ طے شدہ منصوبے کے تحت مدار میں داخل ہوگیا ہے‘۔

شمالی کوریا کہتا رہا ہے کہ یہ راکٹ تجربہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن اس کے ہمسایہ ممالک جنوبی کوریا اور جاپان کے علاوہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تجربے کی آڑ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔

جنوبی کوریا نے اس تجربے کی مذمت کی ہے جبکہ جاپان نے اس معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

"بارہ دسمبر کو سوہائی خلائی مرکز سے ہمارے کوانگ میونگ سونگ سوئم سیٹلائٹ کا دوسرا ورژن بھیجنے کا منصوبہ کامیاب رہا ہے اور مصنوعی سیارہ طے شدہ منصوبے کے تحت مدار میں داخل ہوگیا ہے۔"

شمالی کوریا

جاپانی حکومت کے ترجمان نے اس تجربے کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اس قسم کے واقعات برداشت نہیں کر سکتا۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ راکٹ بظاہر اوكيناوا صوبے کے اوپر سے گزرا ہے لیکن اس نے اسے تباہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

جاپان نے اپنی مسلح افواج کو راکٹ کے تجربے کے بارے میں پہلے سے ہی خبردار کر رکھا تھا اور دھمکی دی تھی کہ وہ اپنی سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ذریعے کو تباہ کر دے گا۔

جنوبی کوریائی خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق اس راکٹ کا کچھ حصہ بحرِ زرد میں جبکہ جاپان کا کہنا ہے کہ باقی ملبہ فلپائن کے مشرق میں گرا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی ميگ باك نے اس تجربہ کو دیکھتے ہوئے اپنے اعلیٰ مشیروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جبکہ ملک کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس تجربے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

سیول میں ایک حکومتی ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ اس تجربے کی کامیابی یا ناکامی کے حقیقی تعین کے لیے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس تجربے کے بارے میں معلوم ہے تاہم فوری طور پر امریکہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل جنوبی کوریا، امریکہ اور دوسرے کئی ممالک نے شمالی کوریا سے راکٹ ٹیسٹ نہ کرنے کی اپیل کی تھی اور وارننگ دی تھی کہ اس طرح کا تجربہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے جس میں طویل فاصلے کے راکٹ تجربے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔