اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے عہدہ چھوڑ دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 17:42 GMT 22:42 PST

اویدگور لائیبرمین اسرائیل کے بے باک ترین سیاست دانوں میں سے ایک ہیں

اسرائیل کے وزیر خارجہ اویدگور لائیبرمین نے اپنے خلاف جاری ایک مقدمے میں طویل تفتیش کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

لائیبرمین اسرائیل کے نائب وزیرِاعظم کی حیثیت سے بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔ ان کے خلاف دس سال پرانے ایک مالیاتی سکینڈل کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

لائیبرمین کا استعفیٰ ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب اسرائیل میں انتخابات پانچ ماہ دور ہیں۔

ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’البتہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، میں پھر بھی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیراعظم کے عہدوں سے مستعفی ہو رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خود کو حاصل پارلیمانی استثنیٰ چھوڑ دیں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس معاملے کو بائیس جنوری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے نبٹا لیں گے تاکہ وہ اپنے ارادے کے تحت انتخابات میں بطور امیدوار شرکت کر سکیں۔

’میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اسرائیلی شہری اس معاملے کے حل ہونے کے بعد انتخابات میں حصہ لے سکیں اور میں اسرائیل کی ریاست اور شہریوں کی ایک مضبوط متحدہ قیادت کے ساتھ خدمت کر سکوں۔‘

اویدگور لائیبرمین وزیرِاعظم نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں دوسری بڑی جماعت اسرائیل بیتینو کے رہنما ہیں۔

"میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اسرائیلی شہری اس معاملے کے حل ہونے کے بعد انتخابات میں حصہ لے سکیں اور میں اسرائیل کی ریاست اور شہریوں کی ایک مضبوط متحدہ قیادت کے ساتھ خدمت کر سکوں۔ "

اویدگور لائیبرمین

دونوں جماعتیں جنوری میں متوقع انتخابات میں مشترکہ طور پر شرکت کریں گی۔ اویدگور لائیبرمین کے خلاف الزامات عائد ہونے پہلے کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان کی اور ان کے اتحادیوں کی کامیابی متوقع تھی۔

پولیس ان کے خلاف رقوم کی غیر قانونی منتقلی اور رشوت کے الزامات کی تفتیش کر رہی ہے تاہم استغاثہ نے ان پر ’اعتماد کو ٹھیس پہنچانے‘ کے قدرے کم سنگین جرم کا الزام لگایا ہے۔

اس فردِ جرم کا تعلق اس بات سے ہے کہ انھوں نے بیلاروس میں سابق اسرائیلی سفیر کے ذریعے اپنے خلاف جاری تفتیش سے متعلق دستاویزات حاصل کیے جن کے بعد انھوں نے مذکورہ سفیر کو بہتر عہدہ سونپ دیا۔

اسرائیلی استغاثہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے رقوم کی غیر قانونی منتقلی اور رشوت کے الزامات کو شواہد کی کمی کی وجہ سے چھوڑ دیا۔

اویدگور لائیبرمین ان لاکھوں اسرائیلیوں میں سے ہے جو کہ سابق سویت یونین سے ہجرت کر کے اسرائیل آئے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اس کے رہنما محمود عباس کے کڑے ناقدین میں سے بھی ہیں اور غربِ اردن میں ایک اسرائیلی آبادی میں رہائش پذیر ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔