چھبیس ہلاکتوں پر امریکہ سوگوار، پرچم سر نگوں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 03:41 GMT 08:41 PST

وائٹ ہاؤس پر امریکی پرچم سر نگوں کر دیا گیا ہے

امریکی ریاست کنیٹی کٹ میں ایک پرائمری سکول میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں بیس بچوں سمیت چھبیس افراد ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کرنے والے شخص سمیت اس واقعے میں ہلاک شدگان کی تعداد ستائیس ہے۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے نوجوان کی ہلاکت کی بھی تصدیق کر دی ہے جن کا نام پہلے رائن لانزا اور عمر چوبیس سال بتائی گئی تھی مگر اب ایک پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ کرنے والے رائن لانزا کے چھوٹے بھائی ایڈم لانزا ہیں جن کی عمر بیس سال بتائی جاتی ہے۔

یہ واقعہ کنیٹی کٹ کے ایک قصبے نیوٹاؤن کے سینڈی ہک پرائمری سکول میں پیش آیا جہاں زیرِ تعلیم بچوں کی عمریں پانچ سے دس برس کے درمیان ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص جن کا نام اب ایڈم لینزا بتایا جا رہا ہے کی والدہ نینسی لینزا بھی اسی سکول میں استاد تھیں جنہیں انہوں نے پہلے ہلاک کیا اور اس کے بعد انہوں نے سکول جا کر فائرنگ کی۔

یہ امریکہ میں کسی تعلیمی ادارے میں فائرنگ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے جس میں اس قدر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے دو ہزار سات میں ورجینیا ٹیک میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں بتیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے انتہائی جزباتی انداز میں پر نم آنکھوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل اتنا ہی دکھی اور غمگین ہے جتنا کے متاثرہ بچوں کے والدین کے ہوں گے

خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس اور نیویارک ٹائمز کے مطابق پولیس اس وقت رائن لینزا سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق اٹھارہ بچوں کی ہلاکت موقع پر ہی ہو گئی تھی اور دو نے بعد میں ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص نےجن کا نام اب ایڈم لینزا بتایا جا رہا ہے، سیاہ کپڑے پہن رکھے تھے اور بلٹ پروف جیکٹ بھی پہنی ہوئی تھی اور وہ بہت سارے ہتھیاروں سے لیس تھے مگر یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے ایک سے زیادہ ہتھیار استعمال بھی کیے یا نہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاکتیں دو کمروں میں ہوئیں جو کہ سکول کے ایک ہی حصے میں واقع ہیں۔

امریکہ بھر میں مختلف مقامات پر لوگوں نے شمعیں جلا کر ہلاک ہونے والوں کا سوگ منایا، جبکہ گرجا گھروں میں خصوصی عبادات بھی منعقد کی گئیں۔

جمعے کو ہونے والی فائرنگ کا یہ واقعہ دو ہزار بارہ میں ہونے والا تیسرا بڑا فائرنگ کا واقعہ ہے۔

امریکی ریاست کولوریڈو میں جولائی کے مہینے میں ایک مسلح شخص نے سینما میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب سینما گھر میں فلم بیٹ مین کی نمائش ہو رہی تھی۔

اسی طرح اگست میں امریکی ریاست وسکانسن میں ایک سکھ مندر پر حملے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر لوگ ہلاک ہونے والوں کی یاد میں جمع ہیں۔ امریکہ بھر میں مختلف مقامات پر ہلاک ہونے والوں کی یاد میں لوگوں نے شمعیں روشن کیں

اسی ماہ دو افراد امریکی ریاست اوریگان کے ایک شاپنگ سنٹر پر فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس موقع پر امریکی صدر براک اوباما نے ایک پریس کانفرنس میں جذباتی آواز میں پُر نم آنکھوں سے کہا کہ اس وقت ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے واقعات دیکھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس بارے میں ٹھوس اقدام کریں۔

پریس کانفرنس کے دوران لڑکھڑاتی آواز میں بولتے ہوئے صدر اوباما بار بار اپنے آنسو پوچھ رہے تھے انہوں نے کہا کہ ان کا دل اتنا ہی دکھی اور غمگین ہے جتنا کے متاثرہ بچوں کے والدین کے ہوں گے۔

اس واقعے کے بعد صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس پر امریکی پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

پولیس نے جائے وقوع سے کئی ہتھیار قبضے میں لیے ہیں اور سکول کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق حفاظتی نقطۂ نظر سے علاقے کے تمام سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

جمعے کو ہونے والی فائرنگ کا یہ واقعہ دو ہزار بارہ میں اس نوعیت کا تیسرا بڑا واقعہ ہے

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس کو ایک مسلح شخص کی سکول کے مرکزی دفتر میں داخل ہونے کی اطلاع ملی تھی جہاں کئی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ایک عینی شاہد نے سی این این کو بتایا کہ فائرنگ کی آواز ہال سے آئی اور اندازاً سو گولیاں چلائی گئیں۔

اس کے بعد پولیس نے کارروائی کر کے سکول سے تمام بچوں کو نکال لیا اور بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا گیا جو فائرنگ کی خبر سن کر سکول پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

سینڈی ہک سکول میں کنڈرگارٹن سے چوتھی کلاس تک کل چھ سو طلبا و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔