مصر میں ریفرنڈم: بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 00:24 GMT 05:24 PST

مصر میں آئینی مسودے پر ہونے والے ریفرنڈم کا پہلا مرحلہ سنیچر کو مکمل ہوا

مصر میں ایک آئینی مسودے پر ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے بعد ووٹنگ بند کر دی گئی ہے۔

آئین کے اس مسودے کو مصری صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین ملک کا آئین بنانا چاہتی ہے۔جبکہ حزب اختلاف کا موقف ہے کہ اس مسودے کو اچھی طرح سے تیار نہیں کیا گیا ہے اور یہ اسلام پسندوں کی جانب زیادہ مائل ہے۔

حزبِ اختلاف نیشنل سالویشن فرنٹ نے اخوان المسلمین پر ریفرنڈم میں دھاندلی کروانے کا الزام لگایا ہے۔

نیشنل سالویشن فرنٹ اس ریفرنڈم کی مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اس ہفتے اس نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ریفرنڈم میں حصہ لے کر ’نہ‘ کا استعمال کریں۔

نیشنل سالویشن فرنٹ نے سنیچر کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انہیں ریفرنڈم میں ہونے والے بے قاعدگیوں پر خدشات ہیں۔واضح ہے کہ اخوان المسلمین ان بے قاعدگیوں کے ذریعے دھاندلی کروانے کی خواہش رکھتی ہے۔‘

تاہم مصری فوج کے چیف آف سٹاف جنرل سیدکی صبحی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر کے حالات سے مطمئین تھے۔

انہوں نے کہا کہ مصر میں جمہوریت کی شروعات ہیں لیکن مصر صحیح سمت میں جا رہا ہے۔

آئینی مسودے کی حمایت کرنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ حزب اختلاف ریفرنڈم کے بارے میں جھوٹا پروپیگینڈہ کر رہا ہے۔

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق الوفد پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر اسلام پسندوں نے حملہ کیا جبکہ قاہرہ میں ایک حملے کے دوران دو لوگ زخمی ہو گئے۔

تشدد کے ایک اور واقعے میں دکاحیلہ شہر میں دو مخالف گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

تاہم لگتا ہے کہ آئینی مسودے پر ہونے والا مرحلہ وار ریفرنڈم جس کا پہلا مرحلہ سنیچر کو ختم ہوا ٹھیک جا رہا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنا ووٹ قاہرہ میں ڈالا۔

پہلے دور کی ووٹنگ دارالحکومت قاہرہ، اسکندریہ، اور دیگر آٹھ صوبوں میں ہوئی۔جبکہ ملک کے باقی حصوں میں ووٹنگ ایک ہفتے بعد ہوگی۔
پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے ڈھائی لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیاگیا تھا۔

وٹروں نے رائٹر خبر رساں ادارے کو قاہرہ میں بتایا کہ وہ پر امید ہیں کہ اس ووٹنگ سے مصر میں استحکام آ جائے گا۔

احمد جندی نے کہا کہ’میں اس کو ایک مثبت اقدام کے سمجھتا ہوں جو ایک ایسا بنیاد فراہم کرے گا جس پر ہم آگے کام کر سکتے ہیں۔‘

اسکندریہ میں جہاں جمعہ کو مخالف گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں محمد اویس نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ میں ایک ایسے آئین کو قبول نہیں کر سکتا جس میں اقلیتوں، خواتین اور یہاں تک کے بچوں کے حقوق بہت محدود ہوں۔‘

مسودے کے ریفرنڈم پر پولنگ کے دائرے کو وسیع رکھاگيا کیونکہ بہت کم جج اس ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کے لیے راضی ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی نتائج دوسرے مرحلے کی ووٹروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اس ریفرنڈم میں عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ وہ نئے آئین کے مسودے کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے آئین کا ہونا ضروری ہے۔

مجوزہ ریفرنڈم سے پہلے ہی صدر مُرسی کے حامیوں اور مخالفین کی ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور منگل کو ہزاروں مظاہرین قاہرہ کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

گزشتہ ہفتے صدر مرسی نے بائیس نومبر کوجاری کیے جانے والے اس فرمان کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔