مصر: آئین پر ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 11:49 GMT 16:49 PST
مصر میں احتجاج کی ایک فائل فوٹو

مجوزہ آئین کے مسودے پر حکومت اور حزب مخالف میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں

مصر میں ایک ریفرنڈم میں آئین کے اس مسودے پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جسے صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین ملک کا آئین بنانا چاہتی ہے۔

صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین آئین کے اس مسودے کو منظوری چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ ریفرنڈم میں ’نہ‘ کا استعمال کریں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ آئین کے اس مسودے میں اسلامی قوانین کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

مصر کے صدرمحمد مرسی اور ان کی پارٹی اخوان المسلمون نے اس آئین کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کا موقف ہے کہ اس مسودے کو اچھی طرح سے تیار نہیں کیا گیا ہے اور یہ اسلام پسندوں کی جانب زیادہ مائل ہے۔

حزبِ اختلاف نیشنل سالویشن فرنٹ نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئین کے متنازع مسودے پر ہونے والے ریفرنڈم میں ’نہ‘ ووٹ کریں۔

پہلے دور کی ووٹنگ دارالحکومت قاہرہ، اسکندریہ، اور دیگر آٹھ صوبوں میں ہو رہی ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں ووٹنگ ایک ہفتے بعد ہوگی۔
پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے ڈھائی لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔

مصر میں اس مسودے پر پانچ کروڑ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالیں گے۔

مسودے کے ریفرنڈم پر پولنگ کے دائرے کو وسیع رکھاگيا کیونکہ بہت کم جج اس ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کے لیے راضی ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی نتائج دوسرے مرحلے کی ووٹروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اس ریفرنڈم میں عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ وہ نئے آئین کے مسودے کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے آئین کا ہونا ضروری ہے۔

دوسرے ممالک میں مصر کے سفارتخانوں میں پہلے ہی ووٹنگ شروع ہو چکی تھی۔

مجوزہ ریفرنڈم سے پہلے ہی صدر مُرسی کے حامیوں اور مخالفین کی ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور منگل کو ہزاروں مظاہرین قاہرہ کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

گزشتہ ہفتے صدر مرسی نے بائیس نومبر کوجاری کیے جانے والے اس فرمان کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان لآئن کا کہنا ہے کہ اس آئین کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نئے آئین میں اسلامی قوانین کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہیں اس کے حامی اسی وجہ سے اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم مخص خانہ پوری نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کو طے کرے گا کہ مستقبل میں مصر کا آئین کیا ہوگا۔ کیا مصر ایک اسلامی ملک ہوگا یا ایک سیکولر ملک۔

قاہرہ کے زمالک ضلع میں ووٹنگ کی قطار میں کھڑے ایک شخص ایصام الگنڈي کا کہنا تھا ’میں آئین سے خوش نہیں ہوں۔‘

وہیں ایک تریپن سالہ ووٹر عادل ایمام کا کہنا تھا’شیخ نے ہم سے ہاں کہنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے آئین کا مطالعہ کیا ہے اور یہ مجھے پسند ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’صدر کے حقوق پہلے سے کم ہیں۔ وہ ایک آمر نہیں ہوسکتے ہیں۔‘

جمعہ کو اس آئین کے حمایتی اور مخالفین پارٹیوں نے اپنی اپنی ریلی کی تھیں۔

اسی دروان مصر کے اسکندریہ میں دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پندرہ افراد زخمی ہوئے تھے اور کئی کاروں کو نذر آتش کردیا گیا۔

یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایک مسجد کے امام نے نمازیوں سے اس مسودے کے حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے زور دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔