جاپانی انتخابات: ایل ڈی پی کی جیت متوقع

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 03:51 GMT 08:51 PST

ووٹ دینے والوں سے لیے گئے سروے کے مطابق شِنزو ایبے کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) نے جاپان کے عام انتخابات جیت لیے ہیں۔

ایل ڈی پی 2009 تک مسلسل 50 سال تک جیتی چلی آ رہی ہے، اور توقع ہے کہ یہ نئے پارلیمان میں مجموعی برتری حاصل کر لے گی۔

ایبے 2006 سے 2007 تک جاپان کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔ انھوں نے عوام کی فلاح کے لیے اخراجات بڑھانے اور چین کے ساتھ حالیہ تنازعات کے پیشِ نظر ایک مضبوط خارجہ پالیسی کا وعدہ کیا ہے۔

جاپان میں سیاست میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سیاست میں ایک طرح کی عدم دلچسپی کا عنصر نمایاں ہے اور ایسے ہی ماحول میں بہت سے ووٹروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کسے ووٹ ڈالیں گے۔

دو ہزار نو کے انتخابات میں ڈی پی جے زبردست کامیابی حاصل کر کے برسر اقتدار آئی تھی اور اس نے قدامت پسند پارٹی ایل ڈی پی کے پچاس سالہ اقتدار کے تسلسل کو ختم کیا تھا۔

جاپان میں سیاست میں غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر بہت سے ووٹروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کسے ووٹ ڈالیں گے۔

اس وقت جاپان کے ووٹروں کے نزدیک سیلز ٹیکس، جوہری توانائی اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے مسئلے اہم ہیں۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے نواحی علاقے کے اکیاون سالہ شہری ہیروکو تاکاہاشی نے خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس سے کہا ’تمام امیدوار انتخابات سے قبل اسی طرح کے وعدے کرتے ہیں لیکن میرے خیال سے کوئی بھی ان کو پورا نہیں کرتے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں نئی پارٹیوں کے بارے میں پر امید ہوں لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں پرانی پارٹیوں میں سے کسی پر بھروسا کر سکتا ہوں۔‘

ڈی پی جے پارٹی فلاحی کاموں میں زیادہ خرچ کرنے اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن عالمی معاشی بدحالی اور گیارہ مارچ دو ہزار گیارہ کے زلزلے اور سونامی کے سبب انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے میں کافی جدوجہد کا سامنا رہا۔

واضح رہے کہ ڈی پی جے کو قیادت کا مسئلہ بھی درپیش رہا اور تین سال میں پارٹی نے تین وزیر اعظم بدلے اور بالآخر یوشی ہیکو نودا وزیر اعظم بنے۔

سیلز ٹیکس دوگنا کرنے کے ان کے فیصلے کی وجہ سے عوام میں اس پارٹی کی مقبولیت میں شدید کمی ہوئی جس کے بارے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ جاپان کے زبردست قرض سے نمٹنے کے لیے یہ قدم بہت ضروری ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جوہری توانائی کی بحث، جوہری ری ایکٹروں کو پھر سے شروع کرنے پر ان کے بدلتے موقف کی وجہ سے بھی حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی۔

ایک سروے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ دو ہزار چھ سات کے درمیان وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے والے شنزو ایبی جاپان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔

جاپان کی اہم سیاسی جماعتوں میں ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان شامل ہے جو دو ہزار نو میں بر سر اقتدار آئی لیکن اسے ناتجربہ کار گنا جاتا ہے۔

دوسری اہم جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور اسے جاپان کی سب سے بڑی پارٹی کہا جاتا ہے جس نے جاپان پر نصف صدی تک حکومت کی ہے۔

جاپان کی تیسری اہم پارٹی جاپان ریسٹوریشن پارٹی ہے جسے دائیں بازو کے دو رہنماؤں کی قیادت حاصل ہے۔

ٹوماروپارٹی کی قیادت شگھا کے گورنر کر رہے ہیں اور وہ جوہری پلیٹ فارم کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔