امریکہ میں شوٹنگ: مشتبہ حملہ آور کا خاکہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 14:01 GMT 19:01 PST

ایڈم لینزا کے بھائی رائن لینزا کہتے ہیں کہ ان کا اپنے بھائی سے 2010 کے بعد سے رابطہ نہیں تھا

ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ کنیٹی کٹ کے سکول میں 26 افراد کے قاتل ایڈم لینزا ذہین لیکن شرمیلے تھے۔

امریکی میڈیا نے بیس سالہ ایڈم لینزا کو اس حملہ آور کی حیثیت سے شناخت کیا ہے جس نے ریاست کنیٹی کٹ کے سینڈی ہک ہائی سکول میں شوٹنگ کی تھی۔ اس کے سابق ہم جماعتوں کو ان کی زیادہ تفصیلات یاد نہیں ہیں۔

وہ ایک ایسے لڑکے کی بات کرتے ہیں جو اچھے کپڑے پہنتا تھا اور محنت کرتا تھا، لیکن اس نے شاید ہی سکول میں کوئی لفظ بولا ہو۔

پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار تو نہیں تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ منظرِ عام پر نظر نہیں آنا چاہتے تھے۔ امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ 2010 کی ایر بک میں ان کی کوئی تصویر نہیں ہے۔ اس کی بجائے ان کے نام کے خانے کے آگے ’کیمرا شائی‘ یا ’کیمرے کے سامنے شرمیلا‘ لکھا ہوا ہے۔

بظاہر ان کا فیس بک پر کوئی صفحہ نہیں بنا ہوا تھا، اور انٹرنیٹ پر ان کی موجودگی کم سے کم تھی۔

ایڈم لینزا ریاست کنیٹی کٹ کے قصبے نیوٹن کے ایک متمول مضافات میں اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کا گھر سینڈی ہُک ہائی سکول سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور تھا۔ بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک زمانے میں اس سکول کے طالب علم رہے تھے۔

وہ نیوٹن ہائی سکول میں پڑھتے تھے، لیکن ان کے دوست بہت کم تھے۔ ان کے ہم جماعت ان کے بارے میں جو الفاظ زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ ذہین لیکن شرمیلا، اور نروس ہیں۔

ایک سابق ہم جماعت اولیویا ڈی وائیوو نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: ’میں نے انھیں کبھی کسی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ مجھے ان کا کوئی ایک دوست بھی یاد نہیں ہے۔‘

"میں نے انھیں کبھی کسی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ مجھے ان کا کوئی ایک دوست بھی یاد نہیں ہے۔"

ایڈم لینزا کی ایک ہم جماعت

لیکن ان کی خالہ مارشا لینزا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انھیں مشفق اور محبت کرنے والے والدین نے پالا تھا، اور اگر ان کے بیٹے کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی تو وہ یقیناً اسے حاصل کرنے سے نہ ہچکچاتے۔

ان کے والدین نے 2009 میں طلاق لے لی تھی، اور وہ اس طلاق سے کم از کم تین سال پہلے علیٰحدہ ہو گئے تھے۔ ان کے والد پیٹر لینزا کنیٹی کٹ ہی کے ایک اور قصبے سٹیم فورڈ منتقل ہو گئے تھے جہاں انھوں نے دوسری شادی کر لی تھی۔

ان کی والدہ نینسی اپنے گھر ہی میں رہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایڈم نے انھیں اسی گھر میں قتل کر دیا تھا۔ وہ سکول میں استانی تھیں۔

ایڈم لینزا کے بڑے بھائی 24 سالہ رائن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ ریاست نیوجرسی چلے گئے تھے اور وہاں وہ ایک اکاؤنٹنگ کی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

ان کے دوست بیان کرتے ہیں کہ وہ ذہین لیکن شرمیلے ہیں۔

رائن لینزا پولیس کی تفتیش میں مدد دے رہے ہیں اور امریکی میڈیا کے مطابق انھوں نے بتایا ہے کہ ان کا اپنے بھائی سے 2010 کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔

دونوں بھائیوں پر اپنے والدین کی علیٰحدگی کا بہت گہرا اثر پڑا تھا۔ ہمسائیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے بعد افسردہ ہو گئے تھے لیکن ان کی ماں نے ان کے لیے ملازمت جاری رکھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔