’چین نئے سٹریٹیجک تعلقات کے بارے میں سوچے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 21:46 GMT 02:46 PST

شنزو آبے کا کہنا ہے کہ وہ ایشیائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں

جاپان کے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما شنزو آبے نے کہا ہے کہ وہ علاقائی ملکیت کے تنازعات میں چین کے خلاف سخت موقف اختیار کریں گے۔

انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب ملک میں اتوار کو ہونے والے عام انتخِابات میں عوامی جائزوں سے سامنے آنے والے معلومات کے تحت ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جن جزیروں پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے ان پر چین کی طرف سے دعوے کو روکیں۔

چین کے مشرقی سمندری علاقے میں متنازع آٹھ جزیروں کو جاپان میں سینکاکو اور چین میں دیایو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان جزیروں پر آبادی نہیں ہے لیکن یہ سٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہیں۔

آبے نے کہا کہ یہ جزیرے جاپان کا حصہ تھے اور ان کی پارٹی کا مقصد چین کی طرف سے جارحیت کو روکنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ’ ہمارا ارادہ چین اور جاپان کے درمیان تعلقات خراب کرنا نہیں۔ بلکہ طرفین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اچھے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں‘۔

انہوں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’چین کو اس بات کا احساس کچھ کم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ باہمی فائدے کے لیے نئے سٹریٹیجک تعلقات کے بارے میں سوچے‘۔

"ہمارا ارادہ چین اور جاپان کے درمیان تعلقات خراب کرنا نہیں۔ بلکہ دونوں طرفین کو یہ تسلیم کرنا چاہئیے کہ اچھے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ چین کو اس بات کا احساس تھوڑا کم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ باہمی فائدے کے لیے نئے سٹریٹیجک تعلقات کے بارے میں سوچھے"

شینزو ایبے ، نومنتخب جاپانی رہنما

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا پر جاری ایک بیان میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جاپان جو معاشی طور پر کمزور ہے اور سیاسی بےچینی کا شکار ہے، نہ صرف اپنے ملک کو بلکہ پورے خطے اور دنیا کو نقصان پہنچا دے گا۔ بیان میں جاپانی رہنماؤں پر زور دیا گیا کہ وہ مقامی قدامت پسند جذبات کو ہوا دینے اور پڑوسیوں سے لڑنے کے بجائے خارجہ پالیسی پر دانشمندانہ رویہ اختیار کریں۔

شنزو آبے نے ایک جاپانی ٹی وی کو بتایا کہ وہ بشمول بھارت اور آسٹریلیا ایشیائی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جاپان کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حالات سنگین ہیں لیکن پھر بھی ہمیں جاپانی ین کو مضبوط کرنا ہو گا کیونکہ ہم نے وعدہ کیا ہے۔‘

دوسری طرف وزیراعظم یوشی ہیکو نودا نے انتخابات میں شکست تسلیم کی ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان ( ڈی پی جے) کے سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دیا ہے۔ ڈی جے پی گذشتہ تین سال سے اقتدار میں تھی۔

جاپانی میڈیا کے مطابق اتوار کو پارلیمان کے 480 سیٹوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں ڈی پی جے نے 55 اور 77 جبکہ ایل ڈی پی نے تقربیاً 300 سیٹیں حاصل کیں ہیں۔

امید ہے کہ ایل ڈی پی کی حریف جماعت کومیٹو پارٹی 30 سیٹیں جیت لے گی جس سے شنزو ایبے کے اس اتحاد کو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔

یوشی ہیکو نودا نے انتخابات کے بعد اپنی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نتائج نہیں دے سکا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔