لیبیا کا جنوبی سرحدیں بند کرنے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 01:23 GMT 06:23 PST

معمر قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد لیبیا کے جنوبی علاقے امن و امان کے مسائل کا شکار رہے ہیں

لیبیا میں جنرل نیشنل کانگرس نے ملک کی جنوبی سرحدیں عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملک کے سات جنوبی صوبوں کو ممنوع فوجی علاقہ قرار دے دیا ہے۔

پارلیمان کے ایک ترجمان عمر حمیدان نے کہا ہے کہ اس حکم کا مقصد ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور سمگلنگ کے سامان کی آمد و رفت روکنا ہے۔

تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ چاڈ، نائجر، سوڈان اور الجیریا کے ساتھ سرحدیں کب تک بند رہیں گی۔

پارلیمان کے حکم کے مطابق غدامس، غات، اوباری، الشاطی، سبھا، مزرق اور الکفرہ میں ایمرجنسی قانون نافذ ہوگا اور یہ علاقے ممنوع فوجی علاقے ہوں گے۔

معمر قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد لیبیا کے جنوبی علاقے امن و امان کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔

پارلیمان کے رکن سعاد غنور کا کہنا ہے کہ امن و امان کی حالیہ خراب صورت حال کی وجہ شمالی مالی میں اسلام پسند شدت پسندوں کے خلاف بین الاقوامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھی بتایا کہ ’ان علاقوں میں منشیات کی سمگلنگ اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور مسلح گروپوں کی موجودگی بھی بڑھ گئی ہے جو آزادی سے کارروائیاں کرتے ہیں۔‘

سرحدوں کو بند کرنے کے حکم سے پہلے یورپی یونین کی طرف سے لیبیا کے اہل کاروں کو سمگلنگ کی روک تھام اور جنوبی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے تربیت کی تجویز دی گئی تھی۔

طرابلس میں موجود بی بی سی کی رعنا جواد کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ روایتی قومی فوج کی عدم موجودگی میں عملی طور پر اس حکم کا مطلب کیا ہے۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق رواں برس کے آغاز میں حکومت نے زنتان کے قریبی پہاڑی علاقے کو بھی فوجی علاقہ قرار دیا تھا لیکن وہاں عملی طور پر کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔