امریکہ میں اسلحہ پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 00:09 GMT 05:09 PST

صدر براک اوبامہ نے بھی سینڈی ہک سکول میں شوٹنگ کے بعد اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’بامعنی اقدام‘ پر زور دیا تھا

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دو سینئیر رہنماؤں نےکنیٹی کٹ کے سکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اسلحہ پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیو ٹاؤن کے سینڈی ہک ایلیمنٹری سکول پر جمعہ کو ایک شخص نے حملہ کرکے بیس بچے اور چھ خواتین ہلاک کر دیے تھے۔ جس کے بعد حملہ آور نے اپنے آپ کو بھی مار دیا تھا۔

کنیٹی کٹ کے گورنر ڈان مالوئے نے کہا ہے کہ وہ اسلحہ پر زیادہ پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔ جبکہ سینیٹر ڈیانا فینسٹن کا کہنا ہے کہ جب کانگرس کا اجلاس ہو گا تو وہ حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر پابندی کا بل پیش کرے گی۔

ملک بھر میں نیم خودکار بندوقوں پر عائد پابندی کی معیاد 2004 میں ختم ہوگئی تھی۔

گورنر ڈان مالوئے نے اتوار کو کہا کہ کنیٹی کٹ میں حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اسلحہ پر پابندی ہے لیکن وفاق کی سطح پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست میں اسلحہ کی آمد کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’ یہ حملہ کرنے کا اسلحہ ہوتا ہے۔ اس سے آپ ہرن کا شکار نہیں کرتے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اسلحہ پر کسی حد تک پابندی لگانے کے لیے کوئی رستہ نکل آئے گا۔‘

سینڈ ہک سکول میں ایک حملہ آور نے بیس بچوں اور چھ خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

سینیٹر ڈیانا فینسٹن کانگرس کے ایوان بالا میں کیلیفورنیا کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ لمبے عرصہ سے اسلحہ پر پابندی کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی ٹی وی این بی سی کو بتایا کہ ’میں سینیٹ میں حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر پابندی کا بل پیش کرونگی اور پھر یہ بل اعوانِ نمائندگان میں بھی پیش کیا جائے گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر براک اوبامہ ان کے اقدامات کی حمایت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ حمایت کریں گے۔‘

صدر براک اوبامہ نے بھی ریاست کنیٹی کٹ کے سکول میں شوٹنگ کے واقعے میں 27 افراد کی ہلاکت کے بعد اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’بامعنی اقدام‘ پر زور دیا تھا۔

نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ بھی اسلحہ پر کنٹرول کے سخت حامی ہیں۔ انہوں نے صدر براک اوبامہ پر عملی اقدامات اٹھانے کے لے زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ’ ہم یہ سب بیان بازیاں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ جو ہم نہیں دیکھ پائے وہ قیادت ہے، نہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے، نہ کانگریس کی طرف سے۔ یہ (سلسلہ) آج بند ہونا چاہیے۔‘

صدر براک اوبامہ اتوار کو سینڈی ہک سکول کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں سے مل رہے ہیں اور وہ بعد میں ایک ماتمی تقریب سے خطاب کریں گے۔

پولیس نے سینڈی ہک ایلیمنٹری سکول کے حملہ آورکو ایڈم لینزا کے نام سے شانخت کیا ہے۔ اس نے سکول جا کر فائر کھولنے سے پہلے اپنی ماں کو ہلاک کیا تھا۔

ریاست کے چیف میڈیکل ایگزامینر نے کہا کہ حملہ آور کا بنیادی ہتھیار ایک رائفل تھی، اور بظاہر تمام ہلاک شدگان کو متعدد بار گولیاں ماری گئی تھیں۔

حملہ آور نے حملے کے دوران چھ بالغوں، جو سب کی سب خواتین تھیں، کو بھی قتل کیا، اور اس کے بعد خودکشی کر لی۔

چار کو چھوڑ کر باقی ہلاک ہونے والے آٹھ لڑکوں اور بارہ لڑکیوں کی عمریں چھ برس تھیں۔ سب سے کم عمر بچے کا نام نووا پوزنر تھا اور اس نے اپنی سالگرہ گذشتہ مہینے منائی تھی۔

کنیٹی کٹ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک افراد کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل جارہی ہے۔ پولیس نے سماجی رابطوں کے ویب سائسٹس پر واقعہ کے متعلق غلط معلومات شائع کرنے پر بھی تنقید کی۔

تحقیقات کرنے والوں کا خیال ہے کہ حملہ آور کئی سال پہلے سینڈی ہک سکول کا طالب علم رہا تھا۔

مشتبہ حملہ آور کے والد پیٹر لینزا نے کہا کہ ان کا خاندان ’اس واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ لواحقین کے غم میں شریک ہیں‘۔

ایک نرس نے بتایا ہے کہ پڑوسیوں نے کرسمس کی پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور وہ گھروں کے باہر سے کرسمس کے لیے لگائی گئی آرائشی بتیاں اور سجاوٹیں ہٹا رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سینڈی ہک سکول کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔