’المیہ واقعات کی روک تھام کے لیے خود کو بدلنا ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 04:02 GMT 09:02 PST

نیو ٹاؤن میں کرسمس کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ نیو ٹاؤن میں مسلح شخص کی فائرنگ سے بیس بچوں سمیت چھبیس افراد کی ہلاکتوں جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے بطور صدر ان کے بس میں جو کچھ ہوا وہ کریں گے۔

ریاست کنیٹی کٹ کے قصبے نیو ٹاؤن کے مقامی سکول میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لیے منعقدہ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

نیو ٹاؤن کے سینڈی ہک ایلیمنٹری سکول میں جمعہ کو ایک شخص نے فائرنگ کر کے بیس بچوں اور چھ خواتین کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد حملہ آور نے خودکشی کر لی تھی۔

پولیس نے حملہ آور کو ایڈم لینزا کے نام سے شناخت کیا ہے جس نے سکول جا کر فائرنگ سے پہلے اپنی ماں کو بھی ہلاک کیا تھا۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ دوبارہ اس قسم کا واقعہ رونما نہ ہونے دینے کے لیے بطور صدر اپنی طاقت کا استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم مزید ایسے واقعات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ المناک واقعات بند ہونے چاہیئیں اور ان کے خاتمے کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’گن کرائم‘ کی پیچیدہ وجوہات ’کارروائی نہ کرنے کی وجہ نہیں بن سکتیں‘۔

انہوں نے نیو ٹاؤن کے رہائشیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ امریکی قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ ’میں قوم کا پیار اور دعائیں لایا ہوں۔ آپ اس غم میں تنہا نہیں ہیں۔ پورا ملک آپ کے ساتھ آبدیدہ ہے‘۔

سینڈی ہک میں ہلاک ہونے والے افراد کی سرکاری فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق ہلاک شدگان میں شامل بیس بچوں میں سے آٹھ لڑکے اور بارہ لڑکیاں تھیں جن کی عمریں چھ سے سات برس کے درمیان تھیں۔

"ہم مزید ایسے واقعات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ المناک واقعات بند ہونے چاہیئیں اور ان کے خاتمے کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔"

براک اوباما

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں اور بڑوں کو قریب سے کئی بار گولیاں ماری گئیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد اتوار کو امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دو سینیئر رہنماؤں نے اسلحہ کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کنیٹی کٹ کے گورنر ڈان مالوئے نے کہا ہے کہ وہ اسلحہ پر زیادہ پابندیاں لگانا چاہتے ہیں جبکہ سینیٹر ڈیانا فینسٹن کا کہنا ہے کہ جب کانگریس کا اجلاس ہو گا تو وہ حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر پابندی کا بل پیش کریں گی۔

امریکہ بھر میں نیم خودکار بندوقوں پر عائد پابندی کی معیاد 2004 میں ختم ہوگئی تھی۔

گورنر ڈان مالوئے نے اتوار کو کہا کہ کنیٹی کٹ میں حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اسلحہ پر پابندی ہے لیکن وفاق کی سطح پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست میں اسلحہ کی آمد کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’ یہ حملہ کرنے کا اسلحہ ہوتا ہے۔ اس سے آپ ہرن کا شکار نہیں کرتے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اسلحہ پر کسی حد تک پابندی لگانے کے لیے کوئی راستہ نکل آئے گا۔‘

ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے

سینیٹر ڈیانا فینسٹن امریکی ایوان بالا میں کیلیفورنیا کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے اسلحہ پر پابندی کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی ٹی وی این بی سی کو بتایا کہ ’میں سینیٹ میں حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر پابندی کا بل پیش کروں گی اور پھر یہ بل ایوانِ نمائندگان میں بھی پیش کیا جائے گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر براک اوباما ان کے اقدامات کی حمایت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ حمایت کریں گے۔‘

براک اوباما نے بھی جمعہ کو اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’بامعنی اقدام‘ پر زور دیا تھا۔

نیویارک کے مئیر مائیکل بلوم برگ بھی اسلحہ پر کنٹرول کے سخت حامی ہیں۔ انہوں نے صدر براک اوباما پر عملی اقدامات اٹھانے کے لیے زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ’ ہم یہ سب بیان بازیاں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ جو ہم نہیں دیکھ پائے وہ قیادت ہے، نہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے، نہ کانگریس کی طرف سے۔ یہ (سلسلہ) آج بند ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔