عراق کے صدر ہسپتال میں داخل

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST

اناسی سالہ جلال طلبانی عراق کے پہلے صدر ہیں جن کا تعلق کُرد لسانی گروہ سے ہے۔

عراق کے صدر جلال طالبانی کو دارلحکومت بغداد کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے اور اُن کی بیماری کو ’ ہیلتھ ایمرجنسی‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

حکومتی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کو تھکاوٹ کی وجہ سےسوموار کی شب دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سرکاری طور پر اُن کی صحت کے حوالے سے بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اُن کے دفتر کا کہنا ہے کہ ’طبی ماہرین کی ٹیم ان کا خیال کر رہی ہے اور اس بارے میں تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقی صدر جلال طالبانی کی صحت گزشتہ کئی برسوں سے خراب ہے اور وہ کئی بار علاج کے لیے بیرون ملک بھی جا چکے ہیں۔

سن دو ہزار آٹھ میں امریکہ میں عراقی صدر کے دل کا آپریشن ہوا تھا اور دو ہزار سات میں وہ پانی کی کمی اور تھکاوٹ کا شکار ہو گئے تھے جس کے علاج کے لیے وہ سوڈان گئے تھے۔

اناسی سالہ جلال طالبانی کا شمار کُرد گوریلا تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا ہے۔ وہ عراق کے پہلے صدر ہیں جن کا تعلق کرد لسانی گروہ سے ہے۔

جلال طالبانی نے کئی دہائیاں مرکزی حکومت اور مختلف کُرد گروہوں کے خلاف لڑائی میں گزاری ہیں۔ انھوں نے سابق صدر صدام حسین کی دور حکومت میں جلا وطنی کی زندگی بھی گزاری ہے۔

حال ہی میں انھوں نے کُردوں کے زیر تسلط سرحدی علاقے میں عراقی حکومت اور کُردوں کے مابین متنازعہ علاقوں کے حوالے سے ایک معاہدہ کروانے میں معاونت بھی کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔