’بن غازی قونصلیٹ کی سکیورٹی ناکافی تھی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 05:53 GMT 10:53 PST

بن غازی حملے کی تحقیقاتی رپورٹ میں امریکی محکمۂ خارجہ کی ڈیپلومیٹک سکیورٹی کی بیورہ اور نیئر ایسٹ آفیئرز کے بیورو پر تنقید کی گئی ہے

لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے بارے میں سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قونصل خانے کے حفاظتی انتظامات ناکافی تھے۔

گیارہ ستمبر 2012 کو ہونے والے حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز اور دیگر تین امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد امریکہ میں اس معاملے پر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا تھا کہ کون اس واقعے کے بارے میں کیا جانتا تھا اور نتیجتاً ایک غیرجانبدار پینل کو اس واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اس تحقیقاتی پینل کی رپورٹ میں امریکی محکمۂ خارجہ کے نظام کی ناکامیوں کی بات کی گئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی فرد نے اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی نہیں کی۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نےرپورٹ میں پیش کی گئی تمام انتیس سفارشات کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہلیری کلنٹن نے کانگریس کی کمیٹی کو ایک خط میں کہا کہ انہوں نے محکمۂ خارجہ کو تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی تمام سفارشات پر مکمل اور فوری عملدرآمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے محکمۂ خارجہ کی طرف سے عملی اقدامات کرنے کی وضاحت کی اور کہا کہ دیگر ممالک میں امریکی سفارت خانوں کی حفاظت کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں عسکری محافظ بھیجے جائیں گے اور محکمۂ خارجہ میں ایک افسر کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ زیادہ خطرناک علاقوں میں امریکی سفارتی مشنز کی نگرانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے وہ مزید فنڈز کی درخواست کریں گی۔

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ میں انتظامی ناکامیوں کی وجہ سے متعلقہ قونصلیٹ کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ تحقیقاتی پینل نے امریکی محکمۂ خارجہ کے سفارتی سکیورٹی کے بیورو اور مشرقِ قریب کے معاملات پر نظر رکھنے والے بیورو پر تنقید کی ہے۔

"امریکی محکمۂ خارجہ کے دو بیوروز میں بالائی سطح پر انتظامی ناکامی اور قیادت کی کمزوری کی وجہ سے بن غازی میں امریکی قونصلیٹ کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی اور مہیا کی گئی سکیورٹی حملے کو روکنے لیے بالکل ناکافی تھی۔"

تحقیقاتی رپورٹ

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے دو بیوروز میں بالائی سطح پر انتظامی ناکامی اور قیادت کی کمزوری کی وجہ سے بن غازی میں امریکی قونصلیٹ کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی اور مہیا کی گئی سکیورٹی حملے کو روکنے لیے بالکل ناکافی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دفتر خارجہ کے بعض سینیئر اہلکاروں میں متحرک قیادت کرنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت قونصلیٹ کو کسی فوری خطرے کے بارے میں کوئی انٹیلیجنس نہیں تھی۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں کسی کو ذمہ داری میں غفلت برتنے کا مرتکب نہیں پایا گیا ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں لیبیا کی حکومت کو بھی قونصلیٹ پر حملہ روکنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو بن غازی میں حملے سے نمٹنے کے مسئلے پر رپبلکن پارٹی کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ابتدا میں حکام نے کہا تھا کہ امریکی قونصلیٹ پر حملہ اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کا نتیجہ تھا لیکن بعد میں آنے والی انٹیلیجنس معلومات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ شاید یہ حملہ القاعدہ سے جڑا ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔