سوئس بینک کو ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 10:14 GMT 15:14 PST

یو بی ایس نے یہ بات مان لی ہے کہ اس کے عملے نے قرضوں پر شرح سود مقرر کرنے کے نظام لائیبور سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے

سوئس بینک یو بی ایس کو بینکوں کے درمیان قرضوں پر شرحِ سود مقرر کرنے کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر ایک اعشاریہ پانچ ارب امریکی ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے۔

یو بی ایس بینک امریکہ، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں بینکوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کو یہ جرمانہ ادا کرنے پر رضامند بھی ہوگیا ہے۔

یو بی ایس بینک قرضوں پر شرح سود مقرر کرنے کے نظام (لائیبور) سے فائدہ اٹھانے کے الزام میں جرمانے کا سامنا کرنے والا دوسرا بڑا بینک بن گیا ہے۔

اس سے پہلے بارکلیز بینک کو اس الزام میں برطانوی اور امریکی حکام کو 450 ملین امریکی ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں بینکوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کئی بینکوں پر قرضووں پر شرح سود مقرر کرنے کے نظام (لائیبور) سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

لائیبور لندن میں بین الاقوامی بینکوں کے مابین قرضوں پر اوسط شرح سود کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

یو بی ایس بینک کا کہنا ہے کہ وہ امریکی محکمۂ انصاف اور کموڈیٹیز فیوچر ٹریڈنگ کمیشن کو مشترکہ طور پر ایک اعشاریہ دو بلین امریکی ڈالر ادا کرے گا جبکہ سوئز فنانشل مارکیٹ سپروائزری اتھارٹی کو 59 ملین سوئس فرانک ادا کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ بینک کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کی فنانشل سروس اتھارٹی (ایف ایس اے) کو 160 ملین پاؤنڈ بھی ادا کرے گا۔

اس طرح یو بی ایس بینک اپنے ٹوکیو آفس کے ذریعے لائیبور سے جاپانی ین میں ناجائز فائدہ اٹھانے کا اعتراف کرنے پر بھی رضامند ہو گیا ہے۔

"ہمیں اس نامناسب اور غیر اخلاقی رویے پر افسوس ہے۔ منافعہ کی کوئی بھی حد اس بینک کی شہرت سے زیادہ اہم نہیں ہے اور ہم عزت و وقار کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے پر عظم ہیں"

سرجیو مورتی ،یو بی ایس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر

بینک نے یہ بات بھی مان لی ہے کہ اس کے عملے نے قرضوں پر شرح سود مقرر کرنے کے نظام لائیبور سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے اربوں ڈالر کے معاہدوں پر شرح سود کی حد مقرر ہوتی ہے۔

یو بی ایس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سرجیو ارموتی نے کہا کہ’ہمیں اس نامناسب اور غیر اخلاقی رویے پر افسوس ہے۔ منافع کی کوئی بھی حد اس بینک کی شہرت سے زیادہ اہم نہیں ہے اور ہم عزت و وقار کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

لندن میں ایف ایس اے کے مطابق یو بی ایس اس معاملے میں اس حد تک آگے جا چکا تھا کہ اس نے اپنے صارفین کو برٹش بینکرز ایسوسی ایشن کی طرف سے لائیبور کے لیے بنائی گئی کمیٹی کو اپنی کاروباری معلومات براہ راست فراہم کرنے کی ذمہ داری دی تھی جس سے کاروباری مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوا کیونکہ اس بینک کے صارفین فائدہ اٹھا سکتے تھے۔

ایف ایس اے کے مطابق یو بی ایس کے ٹوکیو کے دفتر نے ان ایجنٹوں کو غیر قانونی طور رقم ادا کی جو بینک کے لیے قرضے دینے اور لینے والے گاہکوں کو خفیہ طریقے سے اکٹھا کرتے تھے تاکہ لائیبور سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا سکے۔

دوسری طرف یو بی ایس کے چیئرمین ایکسل ویبل کا کہنا ہے کہ ’حکام نے ہماری طرف سے مکمل تحقیقات اور تعاون کو تسلیم کیا ہے۔‘

ایف ایس اے کے مطابق اس نے یو بی ایس کو 200 ملین پاؤنڈ جرمانہ کرنا تھا لیکن بینک کی طرف سے تعاون کی وجہ سے اسے 20 فیصد رعایت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔