یہودی بستیاں: اقوام متحدہ کی شدید تنقید

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 01:07 GMT 06:07 PST

اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کی جائے گی

اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مقبوضہ علاقے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون اور سکیورٹی کونسل کے تمام ممبران سوائے امریکہ کے نے نئی یہودی بستیوں کو فوراً روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے چار یورپی ممبران فرانس، جرمنی، برطانیہ اور پورتگال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کو اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبہ پر سخت تشویش ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’اگر یہ بستیاں تعمیر کی جاتی ہیں تو ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام، اور یروشلم فلسطینی ریاست اور اسرائیل کے دارالحکومت ہونے کے منصوبے کو شدید دھچکا لگے گا۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کی جائے گی۔

اگرچہ امریکہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کا دفاع کیا لیکن امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر ’اشتعال انگیز کارروائیوں‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر امن کے مقصد کو مزید نقصان پہنچائیں گی۔

بدھ کے روز یروشلم کی پلاننگ کمیٹی نے مشرقی یروشلم میں 2610 مکانات پر مبنی یہودی بستی کی منظوری دی۔ یہ 1997 کے بعد پہلی بار ہے کہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستی کی تعمیر کی جائے گی۔

دریں اثناء مغربی کنارے میں یہودی بستی کی تعمیر کے لیے ٹینڈر کا اعلان کیا گیا ہے۔ مغربی کنارے میں ایک ہزار نئے مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔