افغان حل کی کنجی سعودی عرب کے پاس؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 10:06 GMT 15:06 PST

افغان حکومت نے پانچ مراحل پر مشتمل ایک منصوبے کے اشارے دیے ہیں

دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن جیسے جیسے قریب آ رہی ہے افغان قضیے کے حل کی کوششوں میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ کہیں دوحہ مذاکرات تو کہیں پیرس میں رابطے ہو رہے ہیں۔ کہیں ترکی تو کہیں قطر میں طالبان دفاتر کھولنے پر مشورے ہو رہے ہیں۔

ابھی کسی بڑی پیش رفت کے اشارے تو نہیں لیکن مثبت امکانات ضرور ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فریقین مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں میدان جنگ کی جانب دوبارہ لوٹنے سے قبل اپنی سی کوشش ضرور کرنا چاہتے ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات تو پہلے راونڈ کے بعد تعطل کا شکار ہو چکے ہیں لیکن پیرس میں افغان حکومت، طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان ملاقات نتائج کے اعتبار سے تو نہیں لیکن آمنے سامنے بیٹھ جانے کی ہی وجہ سے کافی اہم مانی جا رہی ہے۔

تاہم منتظمین کا اصرار ہے کہ شرکا بحثیت افغان مدعو کیے گئے ہیں نہ کہ کسی تنظیم یا گروہ کے نمائندے کے۔

حملوں اور ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ کبھی جاپان، ترکی اور کبھی مالدیپ میں غیر رسمی مشاورت کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن کسی نتیجے کے بغیر۔

امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر جو دوحہ مذاکرات کا پہلا دور مارچ میں منعقد کیا تھا افغان ذرائع کے مطابق اس پر افغانستان نے امریکہ سے احتجاج کیا تھا اور مزید رابطوں سے منع کر دیا تھا۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کہہ چکے ہیں کہ وہ پیرس تعطل کے شکار اصل مذاکرات کی بحالی کے لیے نہیں جا رہے ہیں۔ ’ہمارے نمائندے ہمارے موقف اور پالیسیوں کی وضاحت کے لیے شریک ہوں گے۔‘

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی فریق اپنے موقف سے ہٹنے کو ابھی تیار نہیں لیکن منصوبہ بندیاں جاری ہیں۔

سعودی عرب ضمانت کا طلبگار

سعودی عرب میں دفتر کھولنے کی ایک اور اہم وجہ اس کا طالبان اور پاکستان پر اثرورسوخ بھی ہے تاہم اسلام آباد میں سفارتی حلقے بتاتے ہیں کہ سعودی عرب ایسی کسی پیش رفت سے قبل فریقین سے ضمانت چاہتا ہے کہ وہ ماضی کی مجاہدین والی روش اختیار نہیں کریں گے۔ انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل میں مجاہدین نے سعودی عرب میں پرامن رہنے کی قسمیں کھائی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے کابل کا جو حشر کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

حال ہی میں افغان حکومت نے پانچ مراحل پر مشتمل ایک منصوبے کے اشارے دیے ہیں۔ اس میں پہلی کامیابی اسے پاکستان کی جانب سے افغانوں کی قیادت میں مذاکرات کی مکمل حمایت کی صورت میں محسوس ہو رہی ہے۔ طالبان قیدیوں کی حال ہی میں رہائی اور سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے مذاکرات کی مکمل حمایت کے واضح اعلانات کو افغان مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں افغان سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’ہم اچھی تبدیلیوں کے لیے پرامید ہیں‘۔

دوسرے مرحلے میں طالبان کو کوئی اتاپتا دینا ہے۔ باتیں تو طالبان کے قطر یا ترکی میں دفتر کھولنے کی ہو رہی ہیں لیکن افغان حکام کی خواہش اور ترجیح یہ ہے کہ یہ دفتر سعودی عرب میں کھولا جائے۔

کابل میں قطر کا سفارت خانہ نہیں ہے لہٰذا وہاں دفتر کھولنے میں قانونی پیچیدگیاں بھی آڑے آ سکتی ہیں اور یہ بھی سعودی عرب کو ترجیح دینے کی ایک وجہ ہے۔

اس تجویز پر غور اس سال فروری میں افغان صدر حامد کرزئی کے دورۂ اسلام آباد میں غور ہوا تھا۔ دونوں نے اس بابت سعودی عرب سے بات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

سعودی حکام نے تجویز پر ابتدائی ہوم ورک کے طور پر بعض طالبان رہنماؤں اور گلبدین حکمت یار کی جماعت کے اراکین کو تبادلۂ خیال کے لیے طلب بھی کیا تھا۔ تاہم سفارتی حلقے بتاتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کی ریاض طلبی کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کوئی بھی فریق اپنے موقف سے ہٹنے کو ابھی تیار نہیں لیکن منصوبہ بندیاں جاری ہیں

سعودی عرب میں دفتر کھولنے کی ایک اور اہم وجہ اس کا طالبان اور پاکستان پر اثرورسوخ بھی ہے تاہم اسلام آباد میں سفارتی حلقے بتاتے ہیں کہ سعودی عرب ایسی کسی پیش رفت سے قبل فریقین سے ضمانت چاہتا ہے کہ وہ ماضی کی مجاہدین والی روش اختیار نہیں کریں گے۔

انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل میں مجاہدین نے سعودی عرب میں پرامن رہنے کی قسمیں کھائی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے کابل کا جو حشر کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب اسی لیے ضمانت کا طلبگار ہے۔ اس بابت توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ برس کا پہلا نصف اہم ہوگا۔

اس کے بعد جنگ بندی اور طالبان کی افغان انتخابات اور بالآخر حکومت میں شرکت پر بات ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت کچھ لے اور کچھ دے کی بنیاد پر شاید فریق اپنے موقف میں نرمی ظاہر کریں لیکن اس عمل کو سب سے بڑا خطرہ ایسے عناصر سے ہے جو امن کے خواہاں نہیں ہیں۔

افغانستان کے انٹیلیجنس چیف پر حملے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کے بیان سے کہ حملہ آور کوئٹہ سے آیا تھا پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوتے ہوتے رہ گئے۔ ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔