کینیا میں نسلی تشدد کی تازہ لہر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 18:00 GMT 23:00 PST

درائے تانا کے کنارے پر گاؤں’ پوکاؤ‘ میں نسلی تشدد میں متعددگھروں کو جلا دیاگیا

کینیا کے ساحلی صوبے میں دریائے تانہ کے کنارے واقع ایک گاؤں ’کیپاؤ‘ میں کسانوں پر مشتمل پوکامو قبیلے کےکوئی ڈیڑھ سو افراد نے جمعہ کو الصبح حملہ کرکے ’اورما‘ قبیلے کے کم از کم انتالیس افراد کو ہلاک کردیا، جس میں تیرہ بچے اور چھ عورتیں بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ اسی نوعیت کے ایک سابقہ حملے کی جوابی انتقامی کار روائی ہے۔ اس گاؤں میں اس برس کے آغاز میں کوئی ایک سو افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے کے پس پردہ سیاسی محرکات ہیں۔

واضح رہے کہ کینیا میں آئیندہ برس مارچ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

دریائے تانہ کے اس علاقے میں نسلی کشید گی کے تناظر میں اسی برس ستمبر میں ایک ہزار دستے پر مشتمل نئی بھرتی شدہ پولیس کی تازہ نفری بھیجی گئی تھی تاکہ کسانوں کے قبیلے ’پوکومو‘ اور نیم خانہ بدوش چرواہوں کے قبیلے ’اورما ‘کے درمیان نسلی حملوں کو روکا جاسکے۔ لیکن تازہ حملے کے بعد یہ واضح ہے کہ پولیس کی نئی کھیپ ایسے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ ’پوکومو‘اور ’اورما‘ قبا ئل کے درمیان زمین اور پانی کے معاملے پر دیرینہ تنازعہ پایا جاتا ہے۔ یہاں نیم خانہ بدوش اورما قبیلے کے مال مو یشی چارے اور پانی کے لیے پو کو مو افراد کی زمینوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جو اکثر جھگڑے اور کشید گی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ مگر اس برس ہونے والے شدید نوعیت کے حملے اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔

ان حملوں میں خنجروں اور چاقوؤں سے ایک دوسرے پر وار کرکے شدید زخمی کردیا گیا، اور کئی افراد زیادہ خون بہہ جانے سبب موت کے منہ میں چلے گئے۔ خصوصاً اس برس اس علاقے میں بارشیں بھی خوب ہوئیں ہیں۔ جن کے بعد پانی کے معاملے پر لڑائی جھگڑوں میں کمی ہونی چاہیے تھی۔

کینیا میں آئیندہ برس مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے تناظر میں کہا جارہا ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ سیاسی مقاصد کار فرما ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کینیا میں ووٹ ذات برادری کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں۔ اگر کسی ایک برادری کے خاصی تعداد میں افراد نسلی تشدد کی بنا پر اپنےگھروں کو چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہو جائیں تو اس علاقے کا انتخابی منظرنامہ متاثر ہوسکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں برادریوں کا جانی نقصان ہوا ہے اورکچھ دہہا تی بر وقت طبی امداد نہ ملنے اور زیادہ خون بہہ جانے کے سبب ہلاک ہوئے۔ متعدد گھروں کو نذر آتش بھی کردیا گیا۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتقامی کاروائی کے خوف سے بہت سے دہہاتی اپنے گھروں سے بھا گ گئے ہیں۔ ریڈ کراس کے مطابق تازہ حملے میں تیس کے قریب افراد شدید زخمی بھی ہوئے، جبکہ چالیس گھروں کو جلا دیا گیا۔

حملے کے بعد پولیس کی ہنگامی امداد کیپاؤ کے لیے روانہ کردی گئی ہے اور زخمیوں کو علاج معالجے کے لیےساحلی شہر ممباسا لیجا یا گیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔