کابل میں سینکڑوں دکانیں جل گئیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST

نصیرے بازار میں لگنے والی یہ آگ رات کو لگی جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مرکزی بازار نصیرے مارکیٹ میں رات گئے لگنے والی آگ سے اب تک لاکھوں ڈالروں کا نقصان ہو چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آگ لگنے کے اس واقعے میں تقریباً چھ سو دکانیں جل گئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی بازار کے ساتھ موجود کابل کی مرکزی کرنسی اور صرافہ مارکیٹ سرائے شہزادہ کو بھی جلدی میں تاجروں کو خالی کرنا پڑا جنہیں بڑی مقدار میں کرنسی نوٹ اور سونا اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔

صرافہ بازار اور کرنسی مارکیٹ کے تاجروں کو حکومت نے گاڑیاں دیں جن میں کروڑوں ڈالر اور مختلف ممالک کی کرنسی اور سونا منتقل کیا گیا۔

کابل کے فائر بریگیڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب تک آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب تک کسی بھی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آگ سے کروڑوں کا سامان اور جائداد تباہ ہو گئی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ جنرل ایوب سلانگی نے بتایا کہ حفاظت پر مامور چوکیدار غائب ہو گیا ہے اور پولیس اس کو ڈھونڈ رہی ہے۔

آگ کے نتیجے میں تقریباً چار سو دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔

ایک افغان تاجر خان محمد نے بی بی سی کے کابل نامہ نگار بلال سروری کو بتایا کہ میں نے اپنی دکان میں پچاس ہزار ڈالر کے قریب سرمایہ لگایا تھا جو میرے بچوں کی روٹی کا سامان تھا اور اب آگ کی نذر ہو گیا ہے۔

ایک اور تاجر شیر شاہ احمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ میرے سمیت کئی دوسروں نے جلدی میں لاکھوں ڈالر، افغانی کرنسی اور سونا اٹھا کر بمشکل بھاگے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔