شام: بیکری پر فضائی حملہ، درجنوں افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 23:17 GMT 04:17 PST

شام کے صوبے حما میں حکومتی فورسز کی جانب سے ایک بیکری پر کیے گئے فضائی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق یہ حملہ حال ہی میں باغیوں کے قبضے میں جانے والے علاقے حلفایا میں کیا گیا ہے۔

کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد نوے ہے اور اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شام کی خانہ جنگی کے دوران سے سب ہلاکت خیز حملہ ہوگا۔

شام میں باغی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف اکیس ماہ سے لڑ رہے ہیں اور حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق اب تک چوالیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

حالیہ تشدد کے واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر ابراہیمی تشدد کے خاتمے کے لیے بات چیت کی غرض سے دمشق پہنچے ہیں۔ وہ اپنے دورے میں شام کے وزیرِ خارجہ اور صدر اسد سے ملیں گے۔

حلفایا میں حزبِ مخالف کے ایک کارکن ثمر الاحماوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’ ابھی کچھ پتا نہیں کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو ہر طرف لاشوں کے ٹکڑے پڑے تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا’ تین دن سے ہمیں آٹا دستیاب نہیں تھا اس لیے سب آج بیکری گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔ مجھے تو اب تک یہ علم نہیں کہ ان میں میرا کوئی رشتہ دار بھی تھا یا نہیں۔‘

واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع کی گئی ایک غیر مصدقہ ویڈیو میں ایک تباہ شدہ عمارت کے ساتھ لاشوں کے خون آلود حصے دیکھے جا سکتے ہیں۔

امدادی کارکن ملبے کے نیچے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں کئی مسلح افراد پہنچ چکے ہیں اور کئی موٹر سائیکل جائے حادثہ کے گرد تباہ شدہ حالت میں پڑے ہیں۔

فری سیرئین آرمی کے باغی حالیہ دنوں میں حما صوبے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کافی زور لگا رہے ہیں۔ پانچ روز بل انہوں نے حلفایا کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اسے روشن خیال علاقہ قرار دیا تھا۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ باغی حما کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور حکومت ہر اس علاقے میں طاقت کا بھرپور استعمال کرتی ہے جو اس کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک نگراں ادارے کے مطابق اتوار کو مزید علاقوں میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں سے ایک صوبہ حلب میں سفیرا کے علاقے میں ہوا اس حملے میں تیرہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔