افغانستان میں امریکی شہری ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 11:15 GMT 16:15 PST

افغان پولیس اہکاروں کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

افغانستان میں نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کے یونیفام میں ملبوس ایک خاتون نے امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

امریکی شہری افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ساتھ مشیر کے طور پر کام کرتے تھے۔

افغانستان کے شمال میں اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں ایک اہلکار نے چھ مقامی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

دارلحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے انتہائی محفوظ ہیڈکوارٹر میں ایک خاتون پولیس اہلکار پولیس کے سربراہ سے ملاقات کے لیے آئیں۔ امریکی مشیر کینٹین کی جانب جا رہے تھے کہ خاتون پولیس اہلکار نے انہیں اپنی پستول سے گولی مار دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور حکام کو شبہ ہے کہ ان کا تعلق طالبان سے ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے امریکی شہری عسکری مشیر تھے لیکن نیٹو اور اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ وہ عام ملازم تھے۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ افغان پولیس میں کسی بھی خاتون کی جانب سے غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر ملکیوں اور اپنے ساتھیوں کو مارنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔جس کے بعد کابل پولیس ہیڈ کوارٹر میں یہ خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کیا افغان اور نیٹو افواج مل کر کام کر بھی سکتے ہیں یا نہیں۔

دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں موجود نیٹو کے تربیتی مشن افغان سکیورٹی فورسز اور غیر ملکی افواج کے مابین اعتماد سازی اور گہرے روابط کے لیے کام کریں گے۔ لیکن اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ دونوں کے مابین گہرے روابط کس حد تک ممکن ہیں۔

غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کی حکمت عملی میں افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ افغانستان میں مقامی پولیس میں اہلکار دیہی علاقوں سے بھرتی کیے جاتے ہیں جن میں اکثر سابق عسکریت پسند ہیں۔

ستمبر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد امریکہ نے مقامی پولیس اہلکاروں کی تربیت معطل کر دی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ پولیس میں بھرتی کیے جانے والے اہلکاروں کے طالبان سے ممکنہ روابط کا پتہ لگائیں گے۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں مقامی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس سے زائد غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔