امریکہ: دو فائر فائٹروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 دسمبر 2012 ,‭ 19:48 GMT 00:48 PST

شوٹنگ کی وجہ سے آگ پر کئی گھنٹوں تک قابو نہیں پایا جا سکا

امریکی ریاست نیویارک کے قصبے ویبسٹر میں ایک ایمرجنسی فون کال کے بعد آگ بجھانے کے لیے آنے والے دو فائر فائٹروں کو گولی مار کر ہلاک جب کہ دو کو زخمی کر دیا گیا ہے۔

پیر کی صبح جب یہ فائر فائٹر آگ بجھانے کے لیے وقوعے پر پہنچے تو ان پر فائر کھول دیا گیا۔

آگ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے بھڑکی تھی اور شوٹنگ کی وجہ سے اس پر کئی گھنٹوں تک قابو نہ پایا جا سکا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مسلح شخص وقوعے پر مردہ پایا گیا۔

ویبسٹر کے فائر مارشل راب بوٹیلیئر نے کہا، ’جب پہلی انجن کمپنی اور کچھ فائر فائٹر اپنی گاڑیوں میں موقعے پر پہنچے تو ان پر کسی نامعلوم مقام سے فائرنگ کی گئی۔‘

پولیس نے مردہ فائر فائٹروں کے نام توماس کیچاوکا اور مائیک چیاپیرینی بتائے ہیں۔

ویبسٹر کے پولیس چیف جیرالڈ پکرنگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک آف ڈیوٹی پولیس آفسر جو وہاں سے گزر رہا تھا اسے بھی زخم آیا ہے اور اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے ترجمان نے کہا کہ جائے وقوعہ پر کوئی اور حملہ آور موجود نہیں ہے۔

پولیس نے شوٹنگ کے بعد علاقہ مکینوں سے خالی کروا لیا۔ اس کے بعد فائر فائٹروں نے وہاں واپس آ کر آگ بجھانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

ہسپتال میں زیرِ علاج دو فائر فائٹروں کی حالت کے بارے میں ہسپتال کے عملے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے ایک بیان میں کہا، ’ہماری دعائیں اور ہمدردیاں تشدد کے اس بے معنی واقعے میں مرنے والوں اور ان کے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔‘

نیویارک کے اٹارنی جنرل ایرک شنائڈر مین نے کہا، ’ویبسٹر میں مرنے والوں اور زخمی اہل کاروں کی خدمات کو کبھی بھی بھلایا نہیں جائے گا۔‘

"ہم اسلحے کو خطرناک لوگوں کے ہاتھ نہ لگنے کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، تاکہ نیویارک کے بہادر شہری، جو اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ہمارا تحفظ کرتے ہیں انھیں اضافی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

نیویارک کے اٹارنی جنرل ایرک شنائڈر مین

انھوں نے مزید کہا، ’ابھی تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، ہم اسلحے کو خطرناک لوگوں کے ہاتھ نہ لگنے کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، تاکہ نیویارک کے بہادر شہری، جو اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ہمارا تحفظ کرتے ہیں انھیں اضافی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

منگل ہی کے روز امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں ایک پولیس اہل کار کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب انھوں نے ایک کار کو روکا اور ڈرائیور نے ان پر گولی چلا دی۔

اس ماہ کنیٹی کٹ کے شہر نیوٹاؤن کے ایک سکول میں شوٹنگ کے واقعے میں 20 بچوں سمیت 26 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں اسلحے پر کنٹرول کی بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے۔

یہ امریکی تاریخ کی ایک بدترین شوٹنگ تھی۔

صدر اوباما نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسلحے پر کنٹرول کے لیے کام کریں گے، جب کہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے ہر امریکی سکول میں مسلح سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔