دوتہائی ووٹروں نے مصری آئین کی منظوری دے دی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 20:49 GMT 01:49 PST

63.8 فیصد ووٹروں نے ریفرنڈم میں ’ہاں‘ پر مہر لگائی

مصر کے الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ تقریباً دو تہائی ووٹروں نے ریفرنڈم میں مجوزہ نئے آئین کی حمایت میں ووٹ ڈالا ہے۔

کل ملا کر 63.8 فیصد ووٹروں نے 15 اور 22 دسمبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں ’ہاں‘ پر مہر لگائی۔ الیکشن کمیشن نے سرکاری ٹیلی ویژن النیل پر نتائج کا براہِ راست اعلان کیا۔

اس کے بعد دو ماہ کے اندر اندر انتخابات ہونا لازمی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آئین اس انقلاب سے غداری کے مترادف ہے جس نے حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ اس آئین کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

صدر محمد مرسی کے اسلام پرست حمایتیوں نے کہا ہے کہ نیا آئین جمہوریت کا تحفظ کرے گا اور استحکام کو فروغ دے گا۔

الیکشن کمیشن کے صدر سمیر عبدالمطیع نے قاہرہ میں ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ مصر کے پانچ کروڑ 20 لاکھ ووٹروں میں سے 32.9 فیصد نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

عبدالمطیع نے حزبِ اختلاف کے الزامات کو رد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ بعض جگہوں پر جعلی ججوں نے پولنگ کی نگرانی کی ہے۔ یہ حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل سالویشن فرنٹ کی طرف سے ووٹنگ کے ہر مرحلے میں لگائے گئے الزامات میں سے ایک الزام ہے۔

مخالفین صدر پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ایک ایسا آئین منظور کروانے پر کمر بستہ ہیں جو اسلام پرستوں کی حمایت کرتا ہے اور جس میں عورتوں اور عیسائیوں کے حقوق کا مناسب تحفظ نہیں کیا گیا۔ مصر کی آبادی کا دس فیصد عیسائی ہے۔

ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی مخالفین نے قاہرہ کے پلوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی۔

صدر محمد مرسی کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ بطور جمہوری طور پر صدر منتخب ہبنے کے یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فاصلوں کو کم کریں اور اعتماد کی فضا پیدا کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔