شام کی ملٹری پولیس کے سربراہ منحرف

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 14:22 GMT 19:22 PST

جنرل عبدالعزیزکے مطابق حکومت کی طرف سے زیادہ جاسوسی کی وجہ سے انہیں منحرف ہونے میں بڑی مشکلات تھیں

شام میں ملٹری پولیس کے سربراہ لفٹینٹ جنرل عبد العزيز جاسم الشلال صدر بشار الاسد کی حکومت سے منحرف ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنرل عبدالعزیز شام چھوڑ کر ترکی چلے گئے ہیں۔

لفٹینٹ جنرل عبدالعزیز صدر بشار الاسد کی حکومت کے سب سے ایک اعلیٰ عہدیدار ہیں جو شام میں حکومت مخالف بغاوت میں شامل ہو گئے۔

انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ فوج شامی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور وہ ایک ’قاتل گروہ‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنرل عبدالعزیز نے ترکی جانے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں فوج سے اس لیے منحرف ہونے کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ فوج شامی عوام کو تحفظ دینے کے اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ گئی ہے اور قتل وغارت کرنے والی گینگ بن گئی ہے۔‘

علاقے میں بی بی سی کے نمائندے جم میور کا کہنا ہے کہ شام میں حکومت کے مخالفین کے ذرائع کے مطابق جنرل عبدالعزیز پوشیدہ طور پر باغیوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔

"میں فوج سے اس لیے منحرف ہونے کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ فوج شامی عوام کو تحفظ دینے کے اپنے بنیادی مشن سے ہٹ گئی ہے اور قتل وغارت کرنے والی گینگ بن گئی ہے"

لفٹننٹ جنرل عبدالعزیز آلشلال

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہی حال جکومت سے منحرف ہونے والے دوسرے سینئر اہل کاروں کا بھی ہے۔

تاہم جنرل عبدالعزیزکے مطابق حکومت کی طرف سے زیادہ جاسوسی کی وجہ سے منحرف ہونے میں بڑی مشکلات تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یقیناً وہاں اور سینئر اہل کار ہیں جو حکومت سے منحرف ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے حالات موزوں نہیں ہیں۔‘

شامی سکیورٹی ذرائع نے رائٹر خبر رساں ادارے کو جنرل عبدالعزیز کے منحرف ہونے کی تصدیق کی لیکن اسے غیر اہم قرار دیا۔ ذرائع نے رائٹر کو بتایا کہ جنرل عبدالعزیز جلد ہی ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے والے تھے اور وہ ’ہیرو‘ بننے کے لیے منحرف ہوگئے ہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب باغیوں نے ملک کے کئی حصوں میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔

الاخضر ابراہیمی نے شام میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ’مستبقبل میں لیے جانے والے اقدامات‘ پر بات چیت کے لیے صدر بشاروالاسد سے بھی ملاقات کی تھی

دریں اثنا شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے الاخضر ابراہیمی نے شام میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے حکومت مخالف دھڑوں سے ملاقات کی ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق ان شامی اپوزیشن دھڑوں کو حکومت برداشت تو کر رہی ہے لیکن ان کو مرکزی حزب اختلاف کی حمایت حاصل نہیں۔

اس سے پہلے الاخضر ابراہیمی نے شام میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ’مستبقبل میں لیے جانے والے اقدامات‘ پر بات چیت کے لیے صدر بشار الاسد سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم انہوں نے ان ’اقدامات‘ کی تفصیل نہیں بتائی۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے حما صوبے میں باغیوں کے کنٹرول والے علاقے میں سرکاری فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں باغی گذشتہ اکیس مہینوں سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں اب تک چوالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔