شامی افواج کا حمص کے ایک ضلع پر قبضہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 12:06 GMT 17:06 PST

اکیس ماہ سے جاری بغاوت میں حمص شہر پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری افواج میں شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔

شام کی سرکاری افواج نے حمص شہر کے ایک بڑے ضلع دیر بعلبہ سے باغیوں کو پسپا کر کے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام میں اکیس ماہ سے جاری بغاوت میں حمص شہر پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری افواج میں شدید لڑائی ہوتی رہی ہے جس کے نتیجے میں شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی افواج نے دو سو سے زائد افراد کو حالیہ لڑائی کے بعد ہلاک کیا ہے لیکن اس دعوے کے کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لوکل کوارڈینیشن کمیٹی نامی ایک انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دیر بعلبہ سے مقامی افراد کو زبردستی اکٹھا کر کے ایک کیمیائی پلانٹ پر لے جایا گیا جہاں انہیں قتل کر دیا گیا اور ہلاک کیے جانے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

لندن میں قائم شامی انسانی حقوق کے مبصر گروپ نے اطلاع دی ہے کہ سنیچر کو دمشق کے مضافات میں حکومتی افواج کی جانب سے کارروائی جاری رہی جہاں حکومتی افواج باغیوں کا صفایا کرنے کی کوشش کررہی رہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اخضر براہیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے مسئلے کا بات چیت کے زریعے پرامن حل نہ نکالا گیا تو شام میں شدید تباہی ہو گی۔

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اخضر براہیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے مسئلے کا بات چیت کے ذریعے پرامن حل نہ نکالا گیا تو شام میں شدید تباہی ہو گی۔

اخضر براہیمی نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروو سے بھی ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے بیان دیا کہ شام کا معاملہ بہت زیادہ فوجی اور فرقہ وارانہ ہو گیا ہے اور اگر اس کا حل نہ نکالا گیا تو اس سے شام کے ہمسایہ ممالک میں بھی بے چینی پھیلے گی جہاں اردن اور لبنان پہلے ہی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد سے نمٹ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے مطابق اب تک پانچ لاکھ سے زائد پناہ گزین شام سے نکل کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

ماسکو کے بعد اخضر براہیمی اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے جہاں وہ مصری صدر مرسی سے اس سلسلے میں ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔