رہا ہونے والے طالبان کی مدد کریں گے: کرزئی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 19:48 GMT 00:48 PST
افغان صدر حامد کرزئی کہتے ہیں طالبان کو اپنے ملک واپں آنا چاہیے

افغان صدر حامد کرزئی کہتے ہیں رہائی پانے والے طالبان کو اپنے ملک واپس آنا چاہیے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے رہا کیے جانے والے طالبان کی مدد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ افغان صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے طالبان اگر افغانستان آنا چاہیں، جو انھیں آنا بھی چاہیے، تو ان کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جا ئےگا۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ افغانستان ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں انھیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

بی بی سی کی مانٹیرنگ سروس کا کہنا ہے کہ صدر کے ترجمان ایمل فیضی کا یہ بیان افغانستان کے ایک آزاد ٹی وی چینل ’ طلوع ‘ سے نشر کیاگیا ہے۔

اس دوران افغانستان کے ایوان بالا ’سینٹ‘ کے ایک رکن فضل ہادی مسلم یار نے اعلیٰ کونسل برائے امن سے کہا ہے کہ پا کستان کی جیل سے رہائی پانے والے طالبان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ رہا ہونے والوں کے نام پتے کیا ہیں، اور انھیں کیونکر رہا گیا ہے، یہ جاننا اعلیٰ کونسل برائے امن کا کام ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاہم عوام کا نمائندہ ہونے کے ناطے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ رہائی پانے والے کون لوگ ہیں، اب وہ کہاں جائیں گے، اور یہ کہ اُن کی رہائی کس طرح عمل میں آئی۔

رکن سینٹ نے کہا کہ ہمیں اعلیٰ کونسل برائے امن اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور پاکستان میں قید طالبان کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

افغانستان کے طلوع ٹی وی کے مطابق پاکستان میں مقید ایک سو طالبان حکام میں سے اب تک تقریباً بیس کو رہا کیا جا چکا ہے۔

ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے رہا ہونے والوں میں ایک نمایاں نام ملا عبدالغنی برادر شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب دیکھنا ہوگا کہ آیا طالبان قیدیوں کی رہائی سےامن مذاکرات پر کوئی مثبت اثر پڑے گا یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔