ساحلی شہروں کے اکیلے رہائشی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 01:56 GMT 06:56 PST

کیا سمندر کی وسعت طلاق یافتہ لوگوں کو دوبارہ زندگی شروع کرانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے؟

برطانیہ میں 2011 کی مردم شماری میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں شادیاں ختم ہونے کی شرح میں بیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور انگلینڈ اور ویلز میں چالیس لاکھ ایسے لوگ ہیں جن کی طلاق ہو چکی ہیں اور ایک ملین ایسے جن میں علیحدگی ہو چکی ہے۔

اس مردم شماری میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طلاق یافتہ یا علیحدگی اختیار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ساحلی شہروں کا رخ کرتی ہے۔ ہیسٹنگ میں ہر چھٹا شخص یا تو طلاق یافتہ ہے یا اس کی علیحدگی ہو چکی ہے۔ تقریباً یہی شرح بلیک پول، ویےمتھ، اور ٹور بے کی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی شاید ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ساحلی شہروں میں مکانوں کا کرایہ کم ہے اور جب شادی ختم ہو جائے تو انسان کو فوراً سستی رہائش کی ضرورت پیش آتی ہے۔

مردم شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہیسٹنگ لندن کے بعد تیسرا ایسا شہر ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کرائے کے مکانوں میں رہتی ہے اور یہاں ایک بیڈ روم کا فلیٹ چار سو پونڈ ماہانہ میں مل جاتا ہے۔ برطانیہ میں اوسطاً ایک بیڈ روم فلیٹ کا کرایہ چھ سو پونڈ ماہانہ ہے۔

لیکن کیا سستی رہائش اس معمے کو سلجھاتی ہے کہ طلاق یافتہ افراد ساحلی شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ طلاق کے صدمے سے سنبھلنے کے لیے سمندر کی وسعت، افق کی دوری، اور تعمیراتی گھٹن سے آزادی ایسی وجوہات ہیں جو طلاق یافتہ لوگوں کو ساحلی شہروں کی طرف کھینچ لاتی ہیں۔

اچھے موسم میں سمندر کے کنارے کی تنہائی اور ہوا کے جھونکے انسان کو ایسا ماحول مہیا کرتے ہیں جہاں وہ اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو مجتمع کر سکتا ہے۔ جو لوگ موسم گرما میں ساحلی شہروں میں آتے ہیں وہ سورج کی حرارت سے اپنے مزاج کو اچھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہیسٹنگ اور بلیک پول ایسے برطانوی شہر ہیں جہاں ریل کی پٹری ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو ان شہروں کا یک طرفہ ٹکٹ لے کر یہاں پہنچے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ان دونوں شہروں میں اڑتیس فیصد ایسے گھر ہیں جہاں اکیلے لوگ رہتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے شادی کے خاتمے کے بعد یہاں آئے اور پھر کبھی لوٹ کے واپس نہیں گئے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔